<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 20:13:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 20:13:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا میں پارلرز اور شادی ہالزپر فکسڈ ٹیکس لگانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30381643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبر پختونخوا حکومت نے  بیوٹی پارلرز اور شادی ہالزپر فکسڈ ٹیکس لگانے کا فیصلہ  کر لیا، جبکہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پیمنٹ کرنے والوں کو 15 فیصد کی بجائے 13 فیصد ٹیکس میں لایا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی ترجمان کے مطابق صوبے بھر میں بیوٹی پارلرز اور شادی ہال پر پرسنٹیج کی بجائے فکسڈ ٹیکسز لگانے کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ شادی ہال اور بیوٹی پارلرز اپنے منتخب کردہ نظام کے مطابق  ماہانہ ٹیکس کیپر کے پاس جمع کرائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق شادی ہالز اور بیوٹی پارلرز کو ان کی سائز اور کاروبار کے حجم کے مطابق مختلف کیٹگریز میں تقسیم کیا جائے گا جن پر سیلز ٹیکس آن سروسز کے مختلف فکسڈ ریٹس لاگو کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ فیصلے پر عملدرآمد تمام اسٹیک ہولڈرز  کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائے گا تاہم فیصلے کے بعد کوئی بھی کاروباری شخص یا ادارہ ٹیکس کی چوری میں ملوث پایا گیا تو  سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پیمنٹ کرنے والوں کو 15 فیصد کی بجائے 13 فیصد ٹیکس میں لایا جائے گا۔ ان تمام اقدامات کے لیے خیبر پختون خوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 میں ترامیم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبر پختونخوا حکومت نے  بیوٹی پارلرز اور شادی ہالزپر فکسڈ ٹیکس لگانے کا فیصلہ  کر لیا، جبکہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پیمنٹ کرنے والوں کو 15 فیصد کی بجائے 13 فیصد ٹیکس میں لایا جائے گا۔</strong></p>
<p>خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی ترجمان کے مطابق صوبے بھر میں بیوٹی پارلرز اور شادی ہال پر پرسنٹیج کی بجائے فکسڈ ٹیکسز لگانے کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ شادی ہال اور بیوٹی پارلرز اپنے منتخب کردہ نظام کے مطابق  ماہانہ ٹیکس کیپر کے پاس جمع کرائیں گے۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق شادی ہالز اور بیوٹی پارلرز کو ان کی سائز اور کاروبار کے حجم کے مطابق مختلف کیٹگریز میں تقسیم کیا جائے گا جن پر سیلز ٹیکس آن سروسز کے مختلف فکسڈ ریٹس لاگو کیے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ فیصلے پر عملدرآمد تمام اسٹیک ہولڈرز  کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائے گا تاہم فیصلے کے بعد کوئی بھی کاروباری شخص یا ادارہ ٹیکس کی چوری میں ملوث پایا گیا تو  سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔</p>
<p>ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پیمنٹ کرنے والوں کو 15 فیصد کی بجائے 13 فیصد ٹیکس میں لایا جائے گا۔ ان تمام اقدامات کے لیے خیبر پختون خوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 میں ترامیم کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30381643</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Apr 2024 22:22:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/181902307aad60c.png?r=190313" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/181902307aad60c.png?r=190313"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
