<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 05:57:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 05:57:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گدھی کا دودھ آپ کو ایک مہینے میں لکھ پتی بنا سکتا ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30382134/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات کا رونما ہونا عام بات ہے، تاہم ایک ایسا واقعہ خبروں کی زینت بنا ہوا ہے، جہاں گدھی کا دودھ بیچنے سے شخص امیر بن گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے ضلع پتن سے تعلق رکھنے والے دھیرن سولنکی نے نیا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق دھیرن نے گدھے کا فارم لگا کر اپنے کاروبار میں فائدہ کچھ اس طرح کمایا ہے، کہ سب کی توجہ خوب سمیٹ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھیرن سولنکی کے فارم میں اس وقت 42 گدھے موجود ہیں، روایتی گائے کے دودھ کے  مقابلے میں گدھی کا دودھ اب اہمیت حاصل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377718"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائیوٹ نوکری کرنے والے دھیرن کو اس نوکری میں وہ سکون نہیں مل پا رہا تھا، بندش اور پابندیوں میں کام کرنے والاے دھیرن اپنا کاروبار چلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ سوچ بچار اور ریسرچ کے بعد دھیرن نے جنوبی بھارت میں اپنا فارم کھولنے اک فیصلہ کیا، کُل 22 لاکھ کی انویسٹمنٹ کر کے شروعات میں دھیرن نے کاروبار کا آغاز 20 گدھوں سے کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق شروعات میں یا تو ڈیمانڈ تھی ہی نہیں یا نہ ہونے کے برار تھی، جس کے باعث شروعات کے 5 ماہ کوئی انکم نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ہار نہ مانتے ہوئے جنوبی حصے کی طرف زیادہ توجہ دی، جہاں ڈیمانڈ زیادہ تھی، تاہم اب دھیرن مہینے کا 2 سے 3 لاکھ بھارتی روپے کما رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں بھارت میں عام طور پر دودھ کی قمیت 65 روپے فی لیٹر مقرر ہے وہیں دھیرن گدھی کا دودھ 5 ہزار سے 7 ہزار کے درمیان فروخت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات کا رونما ہونا عام بات ہے، تاہم ایک ایسا واقعہ خبروں کی زینت بنا ہوا ہے، جہاں گدھی کا دودھ بیچنے سے شخص امیر بن گیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے ضلع پتن سے تعلق رکھنے والے دھیرن سولنکی نے نیا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق دھیرن نے گدھے کا فارم لگا کر اپنے کاروبار میں فائدہ کچھ اس طرح کمایا ہے، کہ سب کی توجہ خوب سمیٹ رہا ہے۔</p>
<p>دھیرن سولنکی کے فارم میں اس وقت 42 گدھے موجود ہیں، روایتی گائے کے دودھ کے  مقابلے میں گدھی کا دودھ اب اہمیت حاصل کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377718"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پرائیوٹ نوکری کرنے والے دھیرن کو اس نوکری میں وہ سکون نہیں مل پا رہا تھا، بندش اور پابندیوں میں کام کرنے والاے دھیرن اپنا کاروبار چلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ سوچ بچار اور ریسرچ کے بعد دھیرن نے جنوبی بھارت میں اپنا فارم کھولنے اک فیصلہ کیا، کُل 22 لاکھ کی انویسٹمنٹ کر کے شروعات میں دھیرن نے کاروبار کا آغاز 20 گدھوں سے کیا تھا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق شروعات میں یا تو ڈیمانڈ تھی ہی نہیں یا نہ ہونے کے برار تھی، جس کے باعث شروعات کے 5 ماہ کوئی انکم نہ ہو سکی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم ہار نہ مانتے ہوئے جنوبی حصے کی طرف زیادہ توجہ دی، جہاں ڈیمانڈ زیادہ تھی، تاہم اب دھیرن مہینے کا 2 سے 3 لاکھ بھارتی روپے کما رہے ہیں۔</p>
<p>جہاں بھارت میں عام طور پر دودھ کی قمیت 65 روپے فی لیٹر مقرر ہے وہیں دھیرن گدھی کا دودھ 5 ہزار سے 7 ہزار کے درمیان فروخت کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30382134</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Apr 2024 18:02:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/21180039e6c3501.png?r=180222" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/21180039e6c3501.png?r=180222"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: بھارتی میڈیا/ بائیں تصویر میں دھیرن گدھی کے دودھ کی بوتل ہاتھ میں تھامے ہوئے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
