<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 00:17:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 00:17:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تصویر کھچوانے کا شوق، خاتون دہکتے آتش فشاں میں جاگریں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30382369/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا میں ایک خاتون سیاح تصویر کھچوانے کی کوشش میں دہکتے آتش فشاں میں جا گریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کی شناخت 31 سالہ چینی شہری ہوانگ لیہونگ کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے شوہر کے ساتھ مشرقی جاوا کے آتش فشاں پارک ”ایجن“ کے گائیڈڈ ٹور پر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے مقامی میڈیا میں گردش کرنے والی ایک تصویر میں ہوانگ لیہونگ کو سانحے سے قبل سلفر گیس کے بادلوں کے ساتھ پوز دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جوڑا طلوع آفتاب کو عکس بند کرنے کیلئے فعال آتش فشاں کی چوٹی پر چڑھ گیا تھا، جو اپنی مقبول ”نیلی آگ“ کیلئے جانا جاتا ہے۔جو سلفیورک گیسوں کے دہکنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹور گائیڈ نے بعد میں حکام کو بتایا کہ ابتدائی طور پر بار بار خبردار کئے جانے کی وجہ سے خاتون نے تصویریں کھینچتے ہوئے گڑھے کے کنارے سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382355"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس کے بعد وہ ایک انچ پیچھے ہوئیں اور غلطی سے اپنے لمبے لباس پر قدم رکھا، اور پھسل کر 250 فٹ لڑھکتے ہوئے آتش فشاں کے منہ میں جا گریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کی لاش کو نکالنے میں ریسکیو عملے کو دو گھنٹے لگے اور سیاح کی موت کو حادثہ قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا میں ایک خاتون سیاح تصویر کھچوانے کی کوشش میں دہکتے آتش فشاں میں جا گریں۔</strong></p>
<p>خاتون کی شناخت 31 سالہ چینی شہری ہوانگ لیہونگ کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے شوہر کے ساتھ مشرقی جاوا کے آتش فشاں پارک ”ایجن“ کے گائیڈڈ ٹور پر تھیں۔</p>
<p>انڈونیشیا کے مقامی میڈیا میں گردش کرنے والی ایک تصویر میں ہوانگ لیہونگ کو سانحے سے قبل سلفر گیس کے بادلوں کے ساتھ پوز دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>یہ جوڑا طلوع آفتاب کو عکس بند کرنے کیلئے فعال آتش فشاں کی چوٹی پر چڑھ گیا تھا، جو اپنی مقبول ”نیلی آگ“ کیلئے جانا جاتا ہے۔جو سلفیورک گیسوں کے دہکنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p>ٹور گائیڈ نے بعد میں حکام کو بتایا کہ ابتدائی طور پر بار بار خبردار کئے جانے کی وجہ سے خاتون نے تصویریں کھینچتے ہوئے گڑھے کے کنارے سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382355"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لیکن اس کے بعد وہ ایک انچ پیچھے ہوئیں اور غلطی سے اپنے لمبے لباس پر قدم رکھا، اور پھسل کر 250 فٹ لڑھکتے ہوئے آتش فشاں کے منہ میں جا گریں۔</p>
<p>حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کی لاش کو نکالنے میں ریسکیو عملے کو دو گھنٹے لگے اور سیاح کی موت کو حادثہ قرار دے دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30382369</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Apr 2024 23:23:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/2223210363c5f31.jpg?r=232244" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/2223210363c5f31.jpg?r=232244"/>
        <media:title>تصاویر بشکریہ نیو یارک پوسٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
