<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:24:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:24:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان سے پاکستان میں گھسنے والے افغان دہشتگرد کے ہوشرُبا انکشافات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30382817/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغان دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ جاری ہے، اس دوران افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے افغان دہشتگرد کے ہوشرُبا انکشافات سامنے آئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30382553"&gt;تئیس اپریل کو ضلع پشین میں ہونے والے سکیورٹی آپریشن&lt;/a&gt; میں زخمی دہشتگرد نے انکشاف کیا کہ پشین حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 اپریل 2024 کو ضلع پشین میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں تین دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے اور ایک دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتاردہشتگرد کا نام حبیب اللہ عرف خالد ولد خان محمد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حبیب اللہ افغانستان کے علاقے سپن بولدک کا رہائشی ہے، جس نے اعتراف کیا کہ بلوچستان کےعلاقے پشین میں حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشتگرد حبیب اللہ نے بتایا کہ حملے کیلئے راکٹ لانچر، گرنیڈ اور اسلحہ افغانستان سے فراہم کیا گیا، ہمیں افغانستان کے بارڈر تک افغان طالبان نے مکمل مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشتگرد حبیب اللہ نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہمیں نشانہ بنایا، آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے میرے دو ساتھی مارے اور میں زخمی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382256"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشتگرد کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد احساس ہوا کہ ہمیں ورغلایا گیا تھا جو بہت بڑی غلطی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جماعت الاحرار اور بلوچ دہشتگرد تنظیمیں پاکستان میں دہشتگردی میں سرفہرست ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغان دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ جاری ہے، اس دوران افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے افغان دہشتگرد کے ہوشرُبا انکشافات سامنے آئے ہیں۔</strong></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30382553">تئیس اپریل کو ضلع پشین میں ہونے والے سکیورٹی آپریشن</a> میں زخمی دہشتگرد نے انکشاف کیا کہ پشین حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔</p>
<p>23 اپریل 2024 کو ضلع پشین میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں تین دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے اور ایک دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار ہوا تھا۔</p>
<p>گرفتاردہشتگرد کا نام حبیب اللہ عرف خالد ولد خان محمد ہے۔</p>
<p>حبیب اللہ افغانستان کے علاقے سپن بولدک کا رہائشی ہے، جس نے اعتراف کیا کہ بلوچستان کےعلاقے پشین میں حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی۔</p>
<p>دہشتگرد حبیب اللہ نے بتایا کہ حملے کیلئے راکٹ لانچر، گرنیڈ اور اسلحہ افغانستان سے فراہم کیا گیا، ہمیں افغانستان کے بارڈر تک افغان طالبان نے مکمل مدد فراہم کی۔</p>
<p>دہشتگرد حبیب اللہ نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہمیں نشانہ بنایا، آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے میرے دو ساتھی مارے اور میں زخمی ہو گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382256"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دہشتگرد کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد احساس ہوا کہ ہمیں ورغلایا گیا تھا جو بہت بڑی غلطی تھی۔</p>
<p>خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جماعت الاحرار اور بلوچ دہشتگرد تنظیمیں پاکستان میں دہشتگردی میں سرفہرست ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30382817</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Apr 2024 11:46:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/25114030832225c.jpg?r=114103" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/25114030832225c.jpg?r=114103"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
