<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:45:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:45:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی! تمام خلیجی ریاستوں کے لیے ایک ویزا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30383636/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات نے شانجان طرز کے ویزے کے تحت سیاحوں کے لیے ایک دلچسپ ویزہ پالیسی پانچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اس ویزہ پالیسی کے تحت دبئی آنے والے سیاح اب تمام خلیجی ریاستوں میں بھی جا سکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب میڈیا کے مطابق سنگل جی سی سی سیاحتی ویزہ کی لانچنگ کے حوالے سے اب باضابطہ متحدہ عرب امارات کی وزارت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر معیشت عبداللہ بن طوق المری کا کہنا تھا کہ جی سی سی ویزہ کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اس حوالے سے تمام خلیجی ریاستوں سے تعاون کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں وزیر نے مزید بتایا کہ ایک بات نافذ العمل ہونے کے بعد یہ پالیسی خلیجی ریاستوں کی منفرد سیاحوں کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر سکے گی۔ جبکہ سیاحوں کو لمبے عرصے تک کے لیے خلیجی ریاستوں کی جانب دھکیلنے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر معیشت کی جانب سے یہ اعلان 28 اور 29 اپریل کو عالمی اکنامک فورم کے پیلٹ فارم سے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ریاستیں سنگل ویزہ پالیسی پر کام کر رہی ہیں اور یہ سیاحتی ویزہ پالیسی ایک سال سے زیادہ عرصے کا ہوگا، جس میں دلچپسی کا اظہار کرنے والے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وزیر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود اس سیاحتی ویزہ پالیسی سے متعلق آفیشل بیان آنے کا انتظار ہے۔ واضح رہے خبروں کے مطابق سنگل سیاحتی ویزہ پالیسی رواں سال یا آئیند سال سے شروع ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ماحول دوست رہائش، جنگلی حیات کے تحفظ، ثقافتی ورثے اور قومی اقدامات اور حکمت عملیوں جیسے ’قومی سیاحت کی حکمت عملی 2031‘ جیسے پائیدار سیاحتی طریقوں کو تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سیاحت کے شعبے میں 2022 کے مقابلے میں 2023 میں نمایاں طور پر 26 فیصد اضافہ ہوا اور 2019 کی سطح کو 14 فیصد سے پیچھے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/135973"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے جی ڈی پی میں اس کا حصہ 220 بلین درہم ہے، جو کہ 11.7 فیصد ہے۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ 2024 میں ڈی ایچ 236 بلین تک بڑھنے کی توقع ہے، جو کہ ملک کی جی ڈی پی کے 12 فیصد کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات نے شانجان طرز کے ویزے کے تحت سیاحوں کے لیے ایک دلچسپ ویزہ پالیسی پانچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اس ویزہ پالیسی کے تحت دبئی آنے والے سیاح اب تمام خلیجی ریاستوں میں بھی جا سکیں گے۔</strong></p>
<p>عرب میڈیا کے مطابق سنگل جی سی سی سیاحتی ویزہ کی لانچنگ کے حوالے سے اب باضابطہ متحدہ عرب امارات کی وزارت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیر معیشت عبداللہ بن طوق المری کا کہنا تھا کہ جی سی سی ویزہ کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اس حوالے سے تمام خلیجی ریاستوں سے تعاون کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اپنے بیان میں وزیر نے مزید بتایا کہ ایک بات نافذ العمل ہونے کے بعد یہ پالیسی خلیجی ریاستوں کی منفرد سیاحوں کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر سکے گی۔ جبکہ سیاحوں کو لمبے عرصے تک کے لیے خلیجی ریاستوں کی جانب دھکیلنے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔</p>
<p>وزیر معیشت کی جانب سے یہ اعلان 28 اور 29 اپریل کو عالمی اکنامک فورم کے پیلٹ فارم سے کیا گیا تھا۔</p>
<p>خلیجی ریاستیں سنگل ویزہ پالیسی پر کام کر رہی ہیں اور یہ سیاحتی ویزہ پالیسی ایک سال سے زیادہ عرصے کا ہوگا، جس میں دلچپسی کا اظہار کرنے والے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگر وزیر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود اس سیاحتی ویزہ پالیسی سے متعلق آفیشل بیان آنے کا انتظار ہے۔ واضح رہے خبروں کے مطابق سنگل سیاحتی ویزہ پالیسی رواں سال یا آئیند سال سے شروع ہو سکتا ہے۔</p>
<p>المری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ماحول دوست رہائش، جنگلی حیات کے تحفظ، ثقافتی ورثے اور قومی اقدامات اور حکمت عملیوں جیسے ’قومی سیاحت کی حکمت عملی 2031‘ جیسے پائیدار سیاحتی طریقوں کو تیار کیا ہے۔</p>
<p>جبکہ خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سیاحت کے شعبے میں 2022 کے مقابلے میں 2023 میں نمایاں طور پر 26 فیصد اضافہ ہوا اور 2019 کی سطح کو 14 فیصد سے پیچھے چھوڑ دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/135973"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک کے جی ڈی پی میں اس کا حصہ 220 بلین درہم ہے، جو کہ 11.7 فیصد ہے۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ 2024 میں ڈی ایچ 236 بلین تک بڑھنے کی توقع ہے، جو کہ ملک کی جی ڈی پی کے 12 فیصد کے برابر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30383636</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Apr 2024 18:48:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/300848428bce20d.png?r=085421" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/300848428bce20d.png?r=085421"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: سپلائیڈ عرب میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
