<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:04:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:04:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی منظوری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30384352/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت نے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی منظوری سپریم کورٹ کے 22 مارچ 2024 کو جاری کیے گئے فیصلے کی روشنی میں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف علی زرداری نے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی منظوری آئین کے آرٹیکل 195 کے تحت دی جس کے تحت ریٹائرمنٹ کے نوٹیفکیشن کا اطلاق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ کی عمر پوری ہونے کی تاریخ 30 جون 2021 سے ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کا 11 اکتوبر 2018 کا لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کا نوٹیفکیشن واپس لینے کی بھی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30366977/"&gt;شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، فیض حمید نے جواب جمع کرادیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر آئین کے آرٹیکل 209(6) کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ِپاکستان آصف زرداری نے وزارت قانون و انصاف کی تجاویز کی منظوری وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ شوکت عزیز صدیق کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے لیے بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;21 جولائی 2018 کو کی گئی اپنی تقریر میں آئی ایس آئی اور مسلح افواج کے سربراہان پر عدالتے کی سماعتوں پر اثر انداز ہونے اور اپنی پسند کے بینچ بنوانے کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں شوکت عزیز صدیقی نے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور اپنی ترمیم شدہ درخواست میں 7 افراد کو نامزد کیا تھا لیکن عدالت نے کہا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق بریگیڈیئرز فیصل مروت اور طاہر وفائی کا معاملے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22 جنوری کو عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کہا تھا کہ جسٹس شوکت صدیق بلاوجہ انہیں؟ اس مقدمے میں گھسیٹا حالانکہ ان کا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں جبکہ انہوں نے بینچوں کے قیام میں اثرورسوخ کے استعمال کے الزامات کو بھی مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30377251/"&gt;سپریم کورٹ نے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کی آخری سماعت کے موقع پر عدالت نے سوال کیا تھا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت صدیق کی برطرفی سے قبل باضابطہ طریقہ کار پر عمل کیا تھا اور اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 22 مارچ کو سنائے گئے فیصلے میں سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی منظوری دے دی۔</strong></p>
<p>صدر مملکت نے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی منظوری سپریم کورٹ کے 22 مارچ 2024 کو جاری کیے گئے فیصلے کی روشنی میں دی۔</p>
<p>آصف علی زرداری نے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی منظوری آئین کے آرٹیکل 195 کے تحت دی جس کے تحت ریٹائرمنٹ کے نوٹیفکیشن کا اطلاق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ کی عمر پوری ہونے کی تاریخ 30 جون 2021 سے ہو گا۔</p>
<p>صدر مملکت نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کا 11 اکتوبر 2018 کا لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کا نوٹیفکیشن واپس لینے کی بھی منظوری دے دی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30366977/">شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، فیض حمید نے جواب جمع کرادیا</a></p>
<p>جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر آئین کے آرٹیکل 209(6) کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔</p>
<p>صدر ِپاکستان آصف زرداری نے وزارت قانون و انصاف کی تجاویز کی منظوری وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر دی۔</p>
<p>خیال رہے کہ شوکت عزیز صدیق کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے لیے بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>21 جولائی 2018 کو کی گئی اپنی تقریر میں آئی ایس آئی اور مسلح افواج کے سربراہان پر عدالتے کی سماعتوں پر اثر انداز ہونے اور اپنی پسند کے بینچ بنوانے کا الزام عائد کیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں شوکت عزیز صدیقی نے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور اپنی ترمیم شدہ درخواست میں 7 افراد کو نامزد کیا تھا لیکن عدالت نے کہا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق بریگیڈیئرز فیصل مروت اور طاہر وفائی کا معاملے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔</p>
<p>22 جنوری کو عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کہا تھا کہ جسٹس شوکت صدیق بلاوجہ انہیں؟ اس مقدمے میں گھسیٹا حالانکہ ان کا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں جبکہ انہوں نے بینچوں کے قیام میں اثرورسوخ کے استعمال کے الزامات کو بھی مسترد کردیا تھا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30377251/">سپریم کورٹ نے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا</a></p>
<p>مقدمے کی آخری سماعت کے موقع پر عدالت نے سوال کیا تھا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت صدیق کی برطرفی سے قبل باضابطہ طریقہ کار پر عمل کیا تھا اور اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔</p>
<p>عدالت نے 22 مارچ کو سنائے گئے فیصلے میں سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30384352</guid>
      <pubDate>Fri, 03 May 2024 18:17:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/03181352d3ecfef.jpg?r=181449" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/03181352d3ecfef.jpg?r=181449"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
