<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 17:59:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 17:59:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں نیا بلدیاتی قانون متعارف کرانے کیلئے مشاورتی اجلاس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30384353/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب میں نیا بلدیاتی قانون متعارف کرانےکیلئےمشاورتی اجلاس ہوا ، کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کی سیکرٹری بلدیات وقانون نے  کمیٹی کوسابق بلدیاتی قوانین پربریفنگ دی  اور تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرزمیں میٹروپولیٹن کارپوریشن بنانےکی تجویز بھی پیش کی ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں نیاب لدیاتی قانون متعارف کرانےکیلئےمشاورتی اجلاس میں  تجویز دی دی  کہ 15ہزارسےکم آبادی میں یونین کونسل قائم ہوگی، 15ہزارسے50ہزارآبادی تک ٹاؤن کمیٹی بنانی چاہئے۔ کمیٹی نے  سفارش کی کہ پچاس ہزار سے 2 لاکھ آبادی میں میونسپل کمیٹی بنائی جائے، دو لاکھ سے 5 لاکھ تک آبادی کیلئے میونسپل کارپوریشنز بنایا جائے گا۔ جبکہ پانچ لاکھ سے اوپر آبادی کیلئے  میٹروپولیٹن کارپوریشن بنائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنوینرکمیٹی کے مطابق  جتنا چھوٹا لوکل گورنمنٹ کا حجم ہوگا اتنے زیادہ نچلی سطح تک اختیارات منتقل ہونگے نئی مردم شماری کےبعدنئی بلدیاتی حلقہ بندی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30327312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے  وزیر بلدیات  کا کہنا تھا کہ 2022 والا ایکٹ قابل قبول نہیں، پورے صوبے کو ون یونٹ بنایا گیاہے، وزیراعلی مریم نواز دیہات میں بھی صفائی کا دیرپا نظام چاہتی ہیں، نیا قانون ہر لحاظ سے جامع اور سابق ایکٹ سے مختلف ہوگا عوام کو صحیح معنوں میں ڈیلیور کرنے والا بلدیاتی نظام دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے اجلاس میں بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال مقرر کرنے پر غور بھی کیا گیا  ،مقامی حکومتوں کو مضبوط اور مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کی سفارش بھی کی گئی  جبکہ بعض ارکان کی بلدیاتی اداروں کو انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب میں نیا بلدیاتی قانون متعارف کرانےکیلئےمشاورتی اجلاس ہوا ، کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کی سیکرٹری بلدیات وقانون نے  کمیٹی کوسابق بلدیاتی قوانین پربریفنگ دی  اور تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرزمیں میٹروپولیٹن کارپوریشن بنانےکی تجویز بھی پیش کی ۔</strong></p>
<p>پنجاب میں نیاب لدیاتی قانون متعارف کرانےکیلئےمشاورتی اجلاس میں  تجویز دی دی  کہ 15ہزارسےکم آبادی میں یونین کونسل قائم ہوگی، 15ہزارسے50ہزارآبادی تک ٹاؤن کمیٹی بنانی چاہئے۔ کمیٹی نے  سفارش کی کہ پچاس ہزار سے 2 لاکھ آبادی میں میونسپل کمیٹی بنائی جائے، دو لاکھ سے 5 لاکھ تک آبادی کیلئے میونسپل کارپوریشنز بنایا جائے گا۔ جبکہ پانچ لاکھ سے اوپر آبادی کیلئے  میٹروپولیٹن کارپوریشن بنائی جائے گی۔</p>
<p>کنوینرکمیٹی کے مطابق  جتنا چھوٹا لوکل گورنمنٹ کا حجم ہوگا اتنے زیادہ نچلی سطح تک اختیارات منتقل ہونگے نئی مردم شماری کےبعدنئی بلدیاتی حلقہ بندی ضروری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30327312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے  وزیر بلدیات  کا کہنا تھا کہ 2022 والا ایکٹ قابل قبول نہیں، پورے صوبے کو ون یونٹ بنایا گیاہے، وزیراعلی مریم نواز دیہات میں بھی صفائی کا دیرپا نظام چاہتی ہیں، نیا قانون ہر لحاظ سے جامع اور سابق ایکٹ سے مختلف ہوگا عوام کو صحیح معنوں میں ڈیلیور کرنے والا بلدیاتی نظام دیں گے۔</p>
<p>کمیٹی کے اجلاس میں بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال مقرر کرنے پر غور بھی کیا گیا  ،مقامی حکومتوں کو مضبوط اور مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کی سفارش بھی کی گئی  جبکہ بعض ارکان کی بلدیاتی اداروں کو انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30384353</guid>
      <pubDate>Fri, 03 May 2024 18:22:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/03182126657082d.png?r=182228" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/03182126657082d.png?r=182228"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
