<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 23:26:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 23:26:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طلب میں کمی، ایسٹرا زینیکا نے کووڈ ویکسین مارکیٹ سے واپس لینا شروع کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30385183/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی شہرت یافتہ دواساز ادارے ایسٹرا زینیکا نے اپنی کووڈ ویکسین مارکیٹ سے واپس لے لی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ طلب میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس باعث اُس نے ویکسین کی تیاری روک دی ہے۔ مارکیٹ میں دیگر اداروں کی ویکسینز کی آمد نے طلب پر شدید منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں کئی اداروں کی نئی ویکسین آچکی ہے۔ کووڈ کے نئے ویریئنٹس کی آمد کے ساتھ ہی مارکیٹ میں ویکسینز بھی بھی بھرمار ہے۔ ایسے میں طلب تیزی سے متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسٹرا زینیکا نے مارچ میں یورپ کے لیے اپنی ویکسین کے استعمال کا اجازت نامہ واپس لے لیا تھا۔ 7 مئی کو یوروپین میڈیسین ایجنسی نے ایک بیان میں بتایا کہ ایسٹرا زینیکا کی کووڈ ویکسین کا اجازت نامہ منسوخ ہوچکا ہے، اب یہ ویکسین نہیں دی جاسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کووڈ ویکسین بنانا اور فراہم کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کمپنی کے بیان کے مطابق پہلے سال کووڈ ویکسین کے اطلاق سے 65 لاکھ زندگیاں بچانا ممکن ہوسکا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں کم و بیش کم و بیش 3 ارب کووڈ ویکسین فراہم کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30247552"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسٹرا زینیکا کے بیان کے مطابق دنیا بھر میں حکومتوں نے اس کی کووڈ ویکسین پر اعتماد کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ کووڈ کی وبا کو کنٹرول کرنے میں اس ویکسین نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ممالک نے، کووڈ کی وبا پر قابو پالیے جانے کے بدولت، ایسٹرا زینیکا اور دیگر دواساز اداروں کی تیار کی ہوئی کووڈ ویکسین کی فراہمی روک دی ہے۔ آسٹریلیا میں یہ مارچ 2023 سے نہیں دی جارہی۔ مارکیٹ میں کئی اداروں کی کووڈ ویکسین کے آنے سے مسابقت بڑھ گئی ہے اور نئی ویکسین کی تیاری زیادہ سُودمند معاملہ نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسٹرا زینیکا نے اپنی کووڈ ویکسین کا نام 2021 میں بدل کر Vaxzevria رکھ لیا تھا۔ یہ ویکسین دو انجکشنز کی شکل میں تھی اور یہ 18 سال سے اِس سے زائد عمر کے افراد ہی کو دی جاسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی شہرت یافتہ دواساز ادارے ایسٹرا زینیکا نے اپنی کووڈ ویکسین مارکیٹ سے واپس لے لی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ طلب میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس باعث اُس نے ویکسین کی تیاری روک دی ہے۔ مارکیٹ میں دیگر اداروں کی ویکسینز کی آمد نے طلب پر شدید منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔</strong></p>
<p>ایسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں کئی اداروں کی نئی ویکسین آچکی ہے۔ کووڈ کے نئے ویریئنٹس کی آمد کے ساتھ ہی مارکیٹ میں ویکسینز بھی بھی بھرمار ہے۔ ایسے میں طلب تیزی سے متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>ایسٹرا زینیکا نے مارچ میں یورپ کے لیے اپنی ویکسین کے استعمال کا اجازت نامہ واپس لے لیا تھا۔ 7 مئی کو یوروپین میڈیسین ایجنسی نے ایک بیان میں بتایا کہ ایسٹرا زینیکا کی کووڈ ویکسین کا اجازت نامہ منسوخ ہوچکا ہے، اب یہ ویکسین نہیں دی جاسکتی۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کووڈ ویکسین بنانا اور فراہم کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کمپنی کے بیان کے مطابق پہلے سال کووڈ ویکسین کے اطلاق سے 65 لاکھ زندگیاں بچانا ممکن ہوسکا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں کم و بیش کم و بیش 3 ارب کووڈ ویکسین فراہم کی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30247552"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایسٹرا زینیکا کے بیان کے مطابق دنیا بھر میں حکومتوں نے اس کی کووڈ ویکسین پر اعتماد کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ کووڈ کی وبا کو کنٹرول کرنے میں اس ویکسین نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>بہت سے ممالک نے، کووڈ کی وبا پر قابو پالیے جانے کے بدولت، ایسٹرا زینیکا اور دیگر دواساز اداروں کی تیار کی ہوئی کووڈ ویکسین کی فراہمی روک دی ہے۔ آسٹریلیا میں یہ مارچ 2023 سے نہیں دی جارہی۔ مارکیٹ میں کئی اداروں کی کووڈ ویکسین کے آنے سے مسابقت بڑھ گئی ہے اور نئی ویکسین کی تیاری زیادہ سُودمند معاملہ نہیں رہی۔</p>
<p>ایسٹرا زینیکا نے اپنی کووڈ ویکسین کا نام 2021 میں بدل کر Vaxzevria رکھ لیا تھا۔ یہ ویکسین دو انجکشنز کی شکل میں تھی اور یہ 18 سال سے اِس سے زائد عمر کے افراد ہی کو دی جاسکتی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30385183</guid>
      <pubDate>Wed, 08 May 2024 10:28:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/081021130fbe88f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/081021130fbe88f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
