<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:42:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:42:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک پر پابندی لگنے والی ہے؟ مقبول ایپلیکیشن میدان میں آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30385261/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مختصر ویڈیوز کی مشہور ایپلیکشن ٹک ٹاک نے امریکی قانون کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔ اس قانون کے تحت مقبول ترین ایپلیکیشن پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملہ یہ تھا کہ ایوانِ نمائندگان کانگریس نے 20 اپریل اور پھر سینیٹ نے 24 اپریل کو ٹک ٹاک پر پابندی کے بل کی منظوری دی تھی، جس کے بعد 24 اپریل کو امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے مذکورہ بل پر دستخط کیے گئے اور پھر یہ بل قانون کی شکل اختیار کر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30383890/"&gt;گوگل کا پاکستان میں 50 اسمارٹ اسکول قائم کرنے کا منصوبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو 2 آپشنز فراہم کئے گئے جس میں کمپنی کو آگاہ کہا گیا کہ امریکا میں ٹک ٹاک کو پابندی سے بچانے کے لیے اگلے 9 ماہ تک کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنا ہوگا یا پھر ایپلیکشن پر پابندی لگائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ٹک ٹاک نے اس قانون کے خلاف امریکی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30381774/"&gt;ٹک ٹاک نے انسٹاگرام کو ہرانے کے لیے نیا ایپ متعارف کرا دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385084"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک اور اس کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس نے دائر کردہ درخواست میں کہا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اس سے امریکی شہریوں کے اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مزید کہا گیا کہ امریکا نے ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے غیر آئینی راستہ اختیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مختصر ویڈیوز کی مشہور ایپلیکشن ٹک ٹاک نے امریکی قانون کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔ اس قانون کے تحت مقبول ترین ایپلیکیشن پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>معاملہ یہ تھا کہ ایوانِ نمائندگان کانگریس نے 20 اپریل اور پھر سینیٹ نے 24 اپریل کو ٹک ٹاک پر پابندی کے بل کی منظوری دی تھی، جس کے بعد 24 اپریل کو امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے مذکورہ بل پر دستخط کیے گئے اور پھر یہ بل قانون کی شکل اختیار کر گیا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30383890/">گوگل کا پاکستان میں 50 اسمارٹ اسکول قائم کرنے کا منصوبہ</a></strong></p>
<p>اس قانون کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو 2 آپشنز فراہم کئے گئے جس میں کمپنی کو آگاہ کہا گیا کہ امریکا میں ٹک ٹاک کو پابندی سے بچانے کے لیے اگلے 9 ماہ تک کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنا ہوگا یا پھر ایپلیکشن پر پابندی لگائی جائے گی۔</p>
<p>اب ٹک ٹاک نے اس قانون کے خلاف امریکی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30381774/">ٹک ٹاک نے انسٹاگرام کو ہرانے کے لیے نیا ایپ متعارف کرا دیا</a></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385084"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹک ٹاک اور اس کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس نے دائر کردہ درخواست میں کہا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اس سے امریکی شہریوں کے اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔</p>
<p>درخواست میں مزید کہا گیا کہ امریکا نے ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے غیر آئینی راستہ اختیار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30385261</guid>
      <pubDate>Wed, 08 May 2024 16:38:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/081621420ebb11d.jpg?r=162210" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/081621420ebb11d.jpg?r=162210"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
