<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:57:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:57:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موت کے صحرا میں بدترین درجہ حرارت ریکارڈ، کتنی گرمی تھی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30385370/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرمی کی شدت جہاں انسان کو شدید متاثر کر رہی ہے، وہیں کچھ ایسے مقامات بھی موجود ہیں جو کہ درجہ حرارت کی زیادتی کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں واقع ڈیتھ ویلی جو کہ موت کے صحرا کے طور پر جانی جاتی ہے، تاہم یہاں سخت گرمی کے باعث انسان بھی زیادہ تر قیام سے گریز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ریاست کیلی فارنیا میں واقع ڈیتھ ویلی یعنی موت کا صحرا ریاست کیلی فارنیا اور نواڈا کے درمیان موجود ہے، جس کا گزشتہ سال درجہ حرارت 53 اعشاریہ 3 ڈگری تک جا پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ دنیا کے سب سے زیادہ درجہ حرارت والا علاقہ بھی یہی ہے، جہاں 1913 میں 56 اعشاریہ 7 ڈگری تک گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد افریقی ملک تنیزیا کے علاقے کبیلی میں 55 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریتیلے پہاڑوں کے ساتھ موجود اس ویلی میں پارک بھی موجود ہے، جہاں اس ویلی سے متعلق دھیان بھی رکھا جاتا ہے، جبکہ یہاں ممکنہ انسانی جان کے نقصان کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اور ریسکیو سروس بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسی ویلی میں پراسرار طور پر کچھ ایسا بھی ہوا ہے جس  نے سب کو خوف میں مبتلا کر دیا تھا، 2014 میں ڈیتھ ویلی سے متعلق خبریں وائرل تھیں، جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈیتھ ویلی نیشنل پارک کے علاقے ریس ٹریک پلایا میں متعدد پتھر اپنی جگہ سے دوسری جگہ تک کا سفر بنا کسی طاقت کے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پتھروں کی تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں، جن میں انہیں صحرا میں کچھ اس طرح سے جگہ تبدیل کرتے دیکھا گیا کہ یہ اپنے نشانات بھی چھوڑے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/05/09101131039f4fa.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
تصویر بذریعہ: امریکی میڈیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;55 سالہ پیلیو بائیولاجسٹ رچرڈ نورس ایک مختلف نظریے کی طرف دیکھتے ہیں جو ان پتھروں سے متعلق اپنی ریسرچ پیش کرتا ہے، اس نظریے کے مطابق ممکنہ طور پر طوفانی ہوائیں ان پتھروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385067"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1948 سے تحقیق کرتے جیولاجسٹس کے مطابق یہ تبدیلی دراصل حصوں میں ہو رہی ہے، یعنی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پتھر اپنا مقام تبدیل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس حوالے سے ماہرین کی جانب سے مختلف آراء پیش کی گئی ہیں، تاہم آج بھی مقامی طور پر اسے پراسرار ہی سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گرمی کی شدت جہاں انسان کو شدید متاثر کر رہی ہے، وہیں کچھ ایسے مقامات بھی موجود ہیں جو کہ درجہ حرارت کی زیادتی کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>امریکہ میں واقع ڈیتھ ویلی جو کہ موت کے صحرا کے طور پر جانی جاتی ہے، تاہم یہاں سخت گرمی کے باعث انسان بھی زیادہ تر قیام سے گریز کرتے ہیں۔</p>
<p>امریکی ریاست کیلی فارنیا میں واقع ڈیتھ ویلی یعنی موت کا صحرا ریاست کیلی فارنیا اور نواڈا کے درمیان موجود ہے، جس کا گزشتہ سال درجہ حرارت 53 اعشاریہ 3 ڈگری تک جا پہنچا تھا۔</p>
<p>جبکہ دنیا کے سب سے زیادہ درجہ حرارت والا علاقہ بھی یہی ہے، جہاں 1913 میں 56 اعشاریہ 7 ڈگری تک گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد افریقی ملک تنیزیا کے علاقے کبیلی میں 55 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ریتیلے پہاڑوں کے ساتھ موجود اس ویلی میں پارک بھی موجود ہے، جہاں اس ویلی سے متعلق دھیان بھی رکھا جاتا ہے، جبکہ یہاں ممکنہ انسانی جان کے نقصان کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اور ریسکیو سروس بھی موجود ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسی ویلی میں پراسرار طور پر کچھ ایسا بھی ہوا ہے جس  نے سب کو خوف میں مبتلا کر دیا تھا، 2014 میں ڈیتھ ویلی سے متعلق خبریں وائرل تھیں، جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈیتھ ویلی نیشنل پارک کے علاقے ریس ٹریک پلایا میں متعدد پتھر اپنی جگہ سے دوسری جگہ تک کا سفر بنا کسی طاقت کے کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان پتھروں کی تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں، جن میں انہیں صحرا میں کچھ اس طرح سے جگہ تبدیل کرتے دیکھا گیا کہ یہ اپنے نشانات بھی چھوڑے جا رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/05/09101131039f4fa.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure>
تصویر بذریعہ: امریکی میڈیا</p>
<p>55 سالہ پیلیو بائیولاجسٹ رچرڈ نورس ایک مختلف نظریے کی طرف دیکھتے ہیں جو ان پتھروں سے متعلق اپنی ریسرچ پیش کرتا ہے، اس نظریے کے مطابق ممکنہ طور پر طوفانی ہوائیں ان پتھروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385067"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>1948 سے تحقیق کرتے جیولاجسٹس کے مطابق یہ تبدیلی دراصل حصوں میں ہو رہی ہے، یعنی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پتھر اپنا مقام تبدیل کر رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ اس حوالے سے ماہرین کی جانب سے مختلف آراء پیش کی گئی ہیں، تاہم آج بھی مقامی طور پر اسے پراسرار ہی سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30385370</guid>
      <pubDate>Thu, 09 May 2024 10:16:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/090959342d40924.png?r=101458" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/090959342d40924.png?r=101458"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: دائیں طرف ریس ٹریک پلایا میں موجود پتھر کا پراسرار سفر، جبکہ بائیں طرف ڈیتھ ویلی کی ایک تصویر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
