<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 02:10:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 02:10:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پراسرار بیماری بچوں کو نگلنے لگی، ڈاکٹرز پریشان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386195/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2020 میں جہاں کرونا وائرس جیسے پینڈیمک نے دنیا بھر کو روک کر رکھ دیا تھا، وہیں اب ڈاکٹرز کی جانب سے ایک اور خطرناک وائرس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق نائجیریا کی ریاست زامفارا میں 4 افراد پراسرار بیماری میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسی بیماری میں مبتلا ہو کر 100 سے زائد افراد اسپتال میں داخل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے یہ پراسرار بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور اس کی علامات فلو سے مماثلت رکھتی صورتحال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حکومت کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے کہنا تھا کہ نامعلوم بیماری کے باعث بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ اسی بیماری میں حکومتی ذرائع کے مطابق 177 افراد مبتلا ہو گئے ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر عائشہ انکا کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی تھی، جس میں اس بیماری اور اس کی علامات سے متعلق بتایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ظاہری علامات میں پیٹ کے پھیلاو کے ساتھ پیٹ میں سیال، جگر اور تلی کا بڑھ جانا، بخار اور جسم کی عام کمزوری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عائشہ کے مطابق یہ بیماری ریاست کے 3 گاؤں تک پھیل چکی ہے، جن میں مارادون، شنکافی اور گوساؤ شامل ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کی جانب سے بھی کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے شامل ہیں، کیونکہ کیسز پانی کے پینے سے تعلق رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>2020 میں جہاں کرونا وائرس جیسے پینڈیمک نے دنیا بھر کو روک کر رکھ دیا تھا، وہیں اب ڈاکٹرز کی جانب سے ایک اور خطرناک وائرس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق نائجیریا کی ریاست زامفارا میں 4 افراد پراسرار بیماری میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسی بیماری میں مبتلا ہو کر 100 سے زائد افراد اسپتال میں داخل ہیں۔</p>
<p>دی ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے یہ پراسرار بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور اس کی علامات فلو سے مماثلت رکھتی صورتحال ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حکومت کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے کہنا تھا کہ نامعلوم بیماری کے باعث بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جبکہ اسی بیماری میں حکومتی ذرائع کے مطابق 177 افراد مبتلا ہو گئے ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر عائشہ انکا کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی تھی، جس میں اس بیماری اور اس کی علامات سے متعلق بتایا گیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب ظاہری علامات میں پیٹ کے پھیلاو کے ساتھ پیٹ میں سیال، جگر اور تلی کا بڑھ جانا، بخار اور جسم کی عام کمزوری شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر عائشہ کے مطابق یہ بیماری ریاست کے 3 گاؤں تک پھیل چکی ہے، جن میں مارادون، شنکافی اور گوساؤ شامل ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کی جانب سے بھی کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔</p>
<p>وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے شامل ہیں، کیونکہ کیسز پانی کے پینے سے تعلق رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386195</guid>
      <pubDate>Mon, 13 May 2024 16:50:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/13140216c260f4a.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/13140216c260f4a.png"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: فائل فوٹو/جاگا دیش یان وی/ای پی اے/ ای ایف ای
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
