<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 09:59:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 09:59:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کسی نے نہیں کہا پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا، وزیر اطلاعات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386382/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386365/"&gt;جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات&lt;/a&gt; کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے قانون و ضوابط کے حوالے سے ٹی وی، اخبار اور ریڈیو میں کافی زیادہ چرچا تھا، ایک سلسلے میں ایک اتھارٹی بنائی گئی جس کے بعد سی ایل سی سی میں بھی معاملہ آیا، وزارت اطلاعات و نشریات نے کافی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ڈرافٹ بھیجا تھا جو آج منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس ڈرافٹ میں ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے اتھارٹی کے قیام کی تجویز پیش کی گئی اور رہنما اصول بھی متعین کیے گئے ہیں جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے عین مطابق ہیں، اس کے باوجود وزیراعظم کی رائے تھی جس کی کابینہ اراکین نے بھی تائید کی کہ قانون سازی میں سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے تو انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں ہماری اتحادی جماعتوں کی نمائندگی ہو گی اور وہ اس کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386370/"&gt;ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان گفتگو کر کے گئے&lt;/a&gt; ہیں، انہوں نے ایک خط کے بارے میں گفتگو کی، کچھ وضاحتیں دیں اور اپنی رائے بھی دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معزز جج نے خط لکھا ہے کہ جس کے مندرجات سے یہ تاثر دیا گیا کہ انٹیلی جنس اور دفاعی ادارے ججز کے کام میں کسی قسم کی مداخلت کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ میرے لیے تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ اس چیز کی اس طرح سے تشہیر کی گئی کہ جیسے عدلیہ میں مداخلت ہے، اس سے پہلے بھی چھ جج صاحبان کا ایک خط آیا اور ان کے خط پر حکومت نے فوری طور پر چیف جسٹس اور فل کورٹ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ اس لیے بنایا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو، اس معاملے کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور اب یہ معاملہ زیر سماعت ہے تو میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386316/"&gt;وزیراعظم کا تمام حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی ملک کو آگے لے کر جاتی ہے لیکن ہمیں دہشت گرد، امن و امان، معاشی اور سیکیورٹی سمیت جس قسم کے چیلنجز اور ماحول کا سامنا ہے ایسی صورت میں تمام اداروں کو ایک دوسرے کو تھوڑی جگہ دینی چاہیے، سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیر اطلاعات اعظم عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کیمرا بریفنگ کی جائے تو اس پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک خط لکھ دیا جاتا ہے کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں، یہ حقیقت پر مبنی بات نہیں ہے، اگر ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی تھی اور میں واضح کردوں کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اتنا آگے لے کر مت جائیے، بات قومی سلامتی کی ہے اور اس ایک معاملے کو لے کر قومی سلامتی لے کر سوال اٹھانا مناسب نہیں، میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ زیریں عدالتوں کے ججوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ ان پر سخت زبان میں باقاعدہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ فلاں کیس میں فلاں فیصلہ کرو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو خطوط کے ذریعے اجاگر نہیں کرنا چاہیے، کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو چیف جسٹس فل کورٹ بلا سکتے ہیں، جس چیف جسٹس سے روزانہ ملاقات ہوتی ہو اس کو خط لکھنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطااللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر اس مسئلے کو لے کر قومی سلامتی پر سوال اٹھایا جائے گا تو یہ مناسب نہیں ہو گا، کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، تو میں سمجھتا ہوں کہ تناؤ کو کم کرنا ہو گا اور تمام اداروں کو اس پر مل جل کر کام کرنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے <a href="https://www.aaj.tv/news/30386365/">جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات</a> کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے قانون و ضوابط کے حوالے سے ٹی وی، اخبار اور ریڈیو میں کافی زیادہ چرچا تھا، ایک سلسلے میں ایک اتھارٹی بنائی گئی جس کے بعد سی ایل سی سی میں بھی معاملہ آیا، وزارت اطلاعات و نشریات نے کافی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ڈرافٹ بھیجا تھا جو آج منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں آیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس ڈرافٹ میں ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے اتھارٹی کے قیام کی تجویز پیش کی گئی اور رہنما اصول بھی متعین کیے گئے ہیں جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے عین مطابق ہیں، اس کے باوجود وزیراعظم کی رائے تھی جس کی کابینہ اراکین نے بھی تائید کی کہ قانون سازی میں سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے تو انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں ہماری اتحادی جماعتوں کی نمائندگی ہو گی اور وہ اس کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30386370/">ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان گفتگو کر کے گئے</a> ہیں، انہوں نے ایک خط کے بارے میں گفتگو کی، کچھ وضاحتیں دیں اور اپنی رائے بھی دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معزز جج نے خط لکھا ہے کہ جس کے مندرجات سے یہ تاثر دیا گیا کہ انٹیلی جنس اور دفاعی ادارے ججز کے کام میں کسی قسم کی مداخلت کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں۔</p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ میرے لیے تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ اس چیز کی اس طرح سے تشہیر کی گئی کہ جیسے عدلیہ میں مداخلت ہے، اس سے پہلے بھی چھ جج صاحبان کا ایک خط آیا اور ان کے خط پر حکومت نے فوری طور پر چیف جسٹس اور فل کورٹ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ اس لیے بنایا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو، اس معاملے کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور اب یہ معاملہ زیر سماعت ہے تو میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30386316/">وزیراعظم کا تمام حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا اعلان</a></strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی ملک کو آگے لے کر جاتی ہے لیکن ہمیں دہشت گرد، امن و امان، معاشی اور سیکیورٹی سمیت جس قسم کے چیلنجز اور ماحول کا سامنا ہے ایسی صورت میں تمام اداروں کو ایک دوسرے کو تھوڑی جگہ دینی چاہیے، سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔</p>
<p>اس موقع پر وزیر اطلاعات اعظم عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کیمرا بریفنگ کی جائے تو اس پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک خط لکھ دیا جاتا ہے کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں، یہ حقیقت پر مبنی بات نہیں ہے، اگر ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی تھی اور میں واضح کردوں کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اتنا آگے لے کر مت جائیے، بات قومی سلامتی کی ہے اور اس ایک معاملے کو لے کر قومی سلامتی لے کر سوال اٹھانا مناسب نہیں، میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ زیریں عدالتوں کے ججوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ ان پر سخت زبان میں باقاعدہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ فلاں کیس میں فلاں فیصلہ کرو۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو خطوط کے ذریعے اجاگر نہیں کرنا چاہیے، کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو چیف جسٹس فل کورٹ بلا سکتے ہیں، جس چیف جسٹس سے روزانہ ملاقات ہوتی ہو اس کو خط لکھنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عطااللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر اس مسئلے کو لے کر قومی سلامتی پر سوال اٹھایا جائے گا تو یہ مناسب نہیں ہو گا، کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، تو میں سمجھتا ہوں کہ تناؤ کو کم کرنا ہو گا اور تمام اداروں کو اس پر مل جل کر کام کرنا ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386382</guid>
      <pubDate>Tue, 14 May 2024 18:35:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/141830350642e6e.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/141830350642e6e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
