<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:06:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:06:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جج بننے کیلئے دوہری شہریت رکھنا نا اہلیت نہیں، رجسٹرار ہائیکورٹ کا فیصل واوڈا کو جواب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386531/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے سینیٹر فیصل واوڈا کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہا ہے کہ آئین پاکستان میں جج بننے کے لیے کسی اور ملک کی شہریت یا رہائش رکھنا نااہلیت نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے فیصل واوڈا کے خط کا جواب دے دیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے آئین میں جج بننے کے لیے کسی اور ملک کی شہریت یا رہائش رکھنا نااہلیت نہیں ہے، کسی بھی وکیل سے ہائیکورٹ کا جج بنتے وقت  دہری شہریت کی معلومات نہیں مانگی جاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجسٹرار آفس  نے مزید کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے 6 ججز کے خط پر از خود کیس کی کارروائی میں اس بات کو واضح کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے بتایا کہ جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ڈسکس ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ڈسکشن کے بعد جسٹس بابر ستار کو بطور جج مقرر کرنے کی منظوری دی، یہ ہائیکورٹ جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی ڈسکشن کا ریکارڈ نہیں رکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30383763/"&gt;بابر ستار کی دہری شہریت کا معاملہ، فیصل واوڈا نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اہم مطالبہ کردیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجسٹرار آفس نے فیصل واؤڈا کو اپنے جواب میں کہا کہ ہائیکورٹ کی پریس ریلیز میں وضاحت کی گئی تھی کہ جسٹس بابر ستار نے اس وقت کے چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ وہ گرین کارڈ رکھتے ہیں، فیصل واؤڈا نے جسٹس بابر ستار کی جانب سے تعیناتی سے قبل گرین کارڈ ہولڈر ہونے کی انفارمیشن فراہم کرنے کا ریکارڈ مانگا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹر فیصل واڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے جسٹس بابر ستار کی جانب سے تعیناتی سے قبل گرین کارڈ ہولڈر ہونے کی انفارمیشن فراہم کرنے کا ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ سے مانگا تھا لیکن 15 دن گرنے کے باوجود انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بابر ستار کہتے ہیں کہ جج بننے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو رپورٹ بھیجی، ہم نے کہا کہ اس کے حوالے سے ریکارڈ روم کے اندر کوئی چیز ہوگی تحریری طور پر لیکن اس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30279933/"&gt;سپریم کورٹ: فیصل واوڈ کی خالی نشست پر سینیٹ الیکشن روکنے استدعا مسترد&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آرڈر دیا کہ ہر پاکستانی بات کسی سے بھی پوچھ سکتا ہے تو پاکستانی تو دور کی بات ایک سینیٹر کو جواب نہیں مل رہا تو اب ابہام بڑھ رہا ہے، شک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ اس کے پیچھے منطق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے سینیٹر فیصل واوڈا کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہا ہے کہ آئین پاکستان میں جج بننے کے لیے کسی اور ملک کی شہریت یا رہائش رکھنا نااہلیت نہیں ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے فیصل واوڈا کے خط کا جواب دے دیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے آئین میں جج بننے کے لیے کسی اور ملک کی شہریت یا رہائش رکھنا نااہلیت نہیں ہے، کسی بھی وکیل سے ہائیکورٹ کا جج بنتے وقت  دہری شہریت کی معلومات نہیں مانگی جاتیں۔</p>
<p>رجسٹرار آفس  نے مزید کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے 6 ججز کے خط پر از خود کیس کی کارروائی میں اس بات کو واضح کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے بتایا کہ جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ڈسکس ہوا۔</p>
<p>جواب میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ڈسکشن کے بعد جسٹس بابر ستار کو بطور جج مقرر کرنے کی منظوری دی، یہ ہائیکورٹ جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی ڈسکشن کا ریکارڈ نہیں رکھتی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30383763/">بابر ستار کی دہری شہریت کا معاملہ، فیصل واوڈا نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اہم مطالبہ کردیا</a></p>
<p>رجسٹرار آفس نے فیصل واؤڈا کو اپنے جواب میں کہا کہ ہائیکورٹ کی پریس ریلیز میں وضاحت کی گئی تھی کہ جسٹس بابر ستار نے اس وقت کے چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ وہ گرین کارڈ رکھتے ہیں، فیصل واؤڈا نے جسٹس بابر ستار کی جانب سے تعیناتی سے قبل گرین کارڈ ہولڈر ہونے کی انفارمیشن فراہم کرنے کا ریکارڈ مانگا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹر فیصل واڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے جسٹس بابر ستار کی جانب سے تعیناتی سے قبل گرین کارڈ ہولڈر ہونے کی انفارمیشن فراہم کرنے کا ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ سے مانگا تھا لیکن 15 دن گرنے کے باوجود انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بابر ستار کہتے ہیں کہ جج بننے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو رپورٹ بھیجی، ہم نے کہا کہ اس کے حوالے سے ریکارڈ روم کے اندر کوئی چیز ہوگی تحریری طور پر لیکن اس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30279933/">سپریم کورٹ: فیصل واوڈ کی خالی نشست پر سینیٹ الیکشن روکنے استدعا مسترد</a></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آرڈر دیا کہ ہر پاکستانی بات کسی سے بھی پوچھ سکتا ہے تو پاکستانی تو دور کی بات ایک سینیٹر کو جواب نہیں مل رہا تو اب ابہام بڑھ رہا ہے، شک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ اس کے پیچھے منطق کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386531</guid>
      <pubDate>Thu, 16 May 2024 10:57:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/16100042fa9aa9c.jpg?r=100046" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/16100042fa9aa9c.jpg?r=100046"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
