<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:03:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:03:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہری نے ایک سالہ بیٹی کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386568/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بچے تو والدین  کو دل و جان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں لیکن ایک پتھر دل اردنی شہری نے ایک سالہ بیٹی کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;العربیہ اردو کی رپورٹ کے مطابق شرابی باپ نے نشے میں دھت ہو کر انتہائی قدم اٹھایا اور اسے احساس بھی نہ ہوا کہ اس حرکت سے اس کی پھول جیسی بیٹی کی موت بھی واقعہ ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اردن کے اس شخص نے بغیر کسی وجہ کے پہلے تو بیٹی کے پاؤں کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے اور پھر پوری بچی کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر اس کی جان لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس افسوسناک واقعہ کی خبر  اردن کے جس شہری تک پہنچی وہ  غمزدہ ہوگیا اور بیٹی کو درد ناک طریقے سے قتل کرنے والے شخص کو سفاک اور ظالم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30384080"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یہ واقعہ  30 اپریل 2024 کو پیش آیا تھا، اردنی پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا ترجمان کرنل عامر سرطاوی نے ”العربیہ ڈاٹ نیٹ“ کو بتایا کہ شیر خوار کو شمالی اردن میں اربد گورنریٹ کے ایک اسپتال میں لے جایا گیا تھا۔ گرم پانی کے گرنے کے نتیجے میں اس کے نچلہ حصہ جل گیا تھا اور وہ دم توڑ گئی۔ واقعہ میں ملوث بچی کے والد کو گرفتار کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بچے تو والدین  کو دل و جان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں لیکن ایک پتھر دل اردنی شہری نے ایک سالہ بیٹی کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا۔</strong></p>
<p>العربیہ اردو کی رپورٹ کے مطابق شرابی باپ نے نشے میں دھت ہو کر انتہائی قدم اٹھایا اور اسے احساس بھی نہ ہوا کہ اس حرکت سے اس کی پھول جیسی بیٹی کی موت بھی واقعہ ہوسکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اردن کے اس شخص نے بغیر کسی وجہ کے پہلے تو بیٹی کے پاؤں کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے اور پھر پوری بچی کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر اس کی جان لے لی۔</p>
<p>اس افسوسناک واقعہ کی خبر  اردن کے جس شہری تک پہنچی وہ  غمزدہ ہوگیا اور بیٹی کو درد ناک طریقے سے قتل کرنے والے شخص کو سفاک اور ظالم قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30384080"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ یہ واقعہ  30 اپریل 2024 کو پیش آیا تھا، اردنی پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا ترجمان کرنل عامر سرطاوی نے ”العربیہ ڈاٹ نیٹ“ کو بتایا کہ شیر خوار کو شمالی اردن میں اربد گورنریٹ کے ایک اسپتال میں لے جایا گیا تھا۔ گرم پانی کے گرنے کے نتیجے میں اس کے نچلہ حصہ جل گیا تھا اور وہ دم توڑ گئی۔ واقعہ میں ملوث بچی کے والد کو گرفتار کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386568</guid>
      <pubDate>Thu, 16 May 2024 15:30:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/1613525719fa466.webp?r=140737" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/1613525719fa466.webp?r=140737"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ Joe Lingeman
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
