<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:12:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:12:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیٹ جی پی ٹی کا نیا ورژن، مزید کون کون سی نوکریاں خطرے میں پڑ گئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386629/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیٹ جی پی ٹی کے باعث جہاں دنیا بھر میں متعدد افراد کی نوکریاں خطرے میں پڑیں، وہیں اب دیگر کئی نوکریوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق جی پی ٹی 40 اور دیگر ملٹی ماڈل اے آئی ماڈلز کئی دیگر افراد کی نوکریاں چھیننے کو تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کی جانب سے نئے ملٹی ماڈل جی پی ٹی 40 کے حوالے سے کافی توجہ سمیٹ رہا ہے، جوکہ ٹیکسٹ، آڈیو اور امیجز کے حوالے سے صارفین کو مدد فراہم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے مقابلے میں اس ماڈل میں میجر ایڈوانسمنٹ سامنے آئی ہے، دوسری جانب ماہر ٹیکنالوجی اور اے آئی تجزیہ کار ماریبیل لوپیز کہتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں ہمارے کام کرنے کا انداز بدل جائے گا، اور اس کا کریڈٹ جی پی ٹی 40 اور دیگر ملٹی ماڈلز کو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوپیز کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکسٹ، ویڈیو اور آڈیو سے متعلق انڈسٹریز اور اداروں میں آنے والے سالوں میں بہت تبدیلیاں آنے والی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ساتھ ہی لوپیز نے مزید بتایا کہ یہ تبدیلیاں دیگر کاموں جیسے کہ الیکٹریشن، پلمبر، اور دیگر ہاتھوں سے کرنے والے کاموں کو تبدیل نہیں کر سکتی ہے، جس میں انسانی جسم کی طاقت درکار ہو، وہ کام جوں کے توں رہیں گے۔ تاہم ان کا کام اے آئی ماڈل آسان ضرور بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مخصوص ایکوائمنٹ کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو مسائل حل کرنے کے لیے یہ ماڈل کارآمد ثابت ہو سکتا ہے، مگر یہ ماڈل میڈیا انڈسٹری کی طرح ان کی جگہ نہیں حاصل کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوپیز نے واضح کیا کہ اے آئی محض ڈیٹا سے متعلق نوکریوں پر اثر انداز ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چیٹ جی پی ٹی کے باعث جہاں دنیا بھر میں متعدد افراد کی نوکریاں خطرے میں پڑیں، وہیں اب دیگر کئی نوکریوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق جی پی ٹی 40 اور دیگر ملٹی ماڈل اے آئی ماڈلز کئی دیگر افراد کی نوکریاں چھیننے کو تیار ہیں۔</p>
<p>اوپن اے آئی کی جانب سے نئے ملٹی ماڈل جی پی ٹی 40 کے حوالے سے کافی توجہ سمیٹ رہا ہے، جوکہ ٹیکسٹ، آڈیو اور امیجز کے حوالے سے صارفین کو مدد فراہم کر سکتا ہے۔</p>
<p>ماضی کے مقابلے میں اس ماڈل میں میجر ایڈوانسمنٹ سامنے آئی ہے، دوسری جانب ماہر ٹیکنالوجی اور اے آئی تجزیہ کار ماریبیل لوپیز کہتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں ہمارے کام کرنے کا انداز بدل جائے گا، اور اس کا کریڈٹ جی پی ٹی 40 اور دیگر ملٹی ماڈلز کو جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لوپیز کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکسٹ، ویڈیو اور آڈیو سے متعلق انڈسٹریز اور اداروں میں آنے والے سالوں میں بہت تبدیلیاں آنے والی ہیں۔</p>
<p>تاہم ساتھ ہی لوپیز نے مزید بتایا کہ یہ تبدیلیاں دیگر کاموں جیسے کہ الیکٹریشن، پلمبر، اور دیگر ہاتھوں سے کرنے والے کاموں کو تبدیل نہیں کر سکتی ہے، جس میں انسانی جسم کی طاقت درکار ہو، وہ کام جوں کے توں رہیں گے۔ تاہم ان کا کام اے آئی ماڈل آسان ضرور بنا سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مخصوص ایکوائمنٹ کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو مسائل حل کرنے کے لیے یہ ماڈل کارآمد ثابت ہو سکتا ہے، مگر یہ ماڈل میڈیا انڈسٹری کی طرح ان کی جگہ نہیں حاصل کر سکتے۔</p>
<p>لوپیز نے واضح کیا کہ اے آئی محض ڈیٹا سے متعلق نوکریوں پر اثر انداز ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386629</guid>
      <pubDate>Fri, 17 May 2024 09:19:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/1709122684f93d1.png?r=091542" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/1709122684f93d1.png?r=091542"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: اوپن اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
