<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:29:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:29:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے آئی ایم ایف کو ریئل اسٹیٹ پر ٹیکس کی یقین دہانی کرا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386708/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات پر اظہارِ عدم اطمینان کرتے ہوئے پلاٹس کی خرید و فروخت میں کیش لین دین پر اضافی ٹیکسز لگانے کا مطالبہ کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکسیشن کا میکنزم نہیں بن سکا، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکسیشن پر اتفاق بھی نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پلاٹس کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے ٹیکسز کی شرح بڑھائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلاٹ کی خرید و فروخت پر نان فائلرز پر اس وقت 7 فیصد ود ہولڈنگ، 4 فیصد گین ٹیکس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386678/"&gt;قرضوں کا سود وفاق کی خالص آمدن سے 205 ارب روپے زیادہ، آئی ایم ایف کا اخراجات میں کمی کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پراپرٹی ایجنٹس کا ڈیٹا اور پلاٹوں کی خرید و فروخت رجسٹرڈ کی جائیں گی، ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی غیر دستاویزی ٹرانزیکشنز ختم کرنے پر کام ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی خرید و فروخت کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کے لیے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386642"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے کیش لین دین کی بجائے بینکنگ چینل استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے پلاٹس کی خرید و فروخت پر کیش لین دین پر اضافی ٹیکسز لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی کٹنگ، اور لینڈ پرچیزنگ کے ریکارڈ کی رجسٹریشن کا مطالبہ بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات پر اظہارِ عدم اطمینان کرتے ہوئے پلاٹس کی خرید و فروخت میں کیش لین دین پر اضافی ٹیکسز لگانے کا مطالبہ کر دیا۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکسیشن کا میکنزم نہیں بن سکا، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکسیشن پر اتفاق بھی نہیں ہو سکا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پلاٹس کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے ٹیکسز کی شرح بڑھائی جائے گی۔</p>
<p>پلاٹ کی خرید و فروخت پر نان فائلرز پر اس وقت 7 فیصد ود ہولڈنگ، 4 فیصد گین ٹیکس ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30386678/">قرضوں کا سود وفاق کی خالص آمدن سے 205 ارب روپے زیادہ، آئی ایم ایف کا اخراجات میں کمی کا مطالبہ</a></p>
<p>آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پراپرٹی ایجنٹس کا ڈیٹا اور پلاٹوں کی خرید و فروخت رجسٹرڈ کی جائیں گی، ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی غیر دستاویزی ٹرانزیکشنز ختم کرنے پر کام ہو گا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی خرید و فروخت کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کے لیے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386642"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے کیش لین دین کی بجائے بینکنگ چینل استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے پلاٹس کی خرید و فروخت پر کیش لین دین پر اضافی ٹیکسز لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی کٹنگ، اور لینڈ پرچیزنگ کے ریکارڈ کی رجسٹریشن کا مطالبہ بھی کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386708</guid>
      <pubDate>Fri, 17 May 2024 19:47:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/1719464577eb6c2.jpg?r=194759" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/1719464577eb6c2.jpg?r=194759"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
