<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:32:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:32:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ممکنہ طور پر خلائی مخلوق تک پہنچانے والے 7 ستارے دریافت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386797/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلکیات کے ماہرین نے ایسے سات ستارے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ ساتوں ساتوں فلکیات کے حلقوں میں معروف ڈائسن میگا اسٹرکچرز کے حامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراجیکٹ ہیفیسٹوز کے تحت دریافت ہونے ان ستاروں کی مدد سے ماہرین کو خلا میں کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے حوالے سے تحقیق میں غیر معمولی حد تک مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ستاروں کی دریافت ٹیکنالوجیز سے متعلق انسان کی مہارت کو چیلنج کرنے والا عامل ہے۔ اب ماہرین کو نئے سِرے سے کائنات کی تفہیم کے حوالے سے سوچنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انسان خلا میں جس قدر آگے بڑھ رہا ہے، کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے امکان کے حوالے سے تحقیق کا جوش و خروش بھی بڑھتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ستاروں کی دریافت ڈائسن اسفیئر میگا اسٹرکچرز کے تصور کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان میگا اسٹرکچرز کے ذریعے انتہائی ذہین خلائی مخلوق دوسرے ستاروں سے توانائی کشید کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائسن اسفیئر کا تصور طبعیات دان فریمین جے ڈائسن نے 1960 میں پیش کیا تھا۔ خلائے بسیط میں کسی مخلوق اور اُس کی شاندار ذہانت کی تلاش کے حوالے سے یہ ٹیکنوسفیئرز غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فلکیات کے ماہرین نے ایسے سات ستارے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ ساتوں ساتوں فلکیات کے حلقوں میں معروف ڈائسن میگا اسٹرکچرز کے حامل ہیں۔</strong></p>
<p>پراجیکٹ ہیفیسٹوز کے تحت دریافت ہونے ان ستاروں کی مدد سے ماہرین کو خلا میں کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے حوالے سے تحقیق میں غیر معمولی حد تک مدد ملے گی۔</p>
<p>نئے ستاروں کی دریافت ٹیکنالوجیز سے متعلق انسان کی مہارت کو چیلنج کرنے والا عامل ہے۔ اب ماہرین کو نئے سِرے سے کائنات کی تفہیم کے حوالے سے سوچنا پڑے گا۔</p>
<p>ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انسان خلا میں جس قدر آگے بڑھ رہا ہے، کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے امکان کے حوالے سے تحقیق کا جوش و خروش بھی بڑھتا جارہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نئے ستاروں کی دریافت ڈائسن اسفیئر میگا اسٹرکچرز کے تصور کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان میگا اسٹرکچرز کے ذریعے انتہائی ذہین خلائی مخلوق دوسرے ستاروں سے توانائی کشید کرتی ہے۔</p>
<p>ڈائسن اسفیئر کا تصور طبعیات دان فریمین جے ڈائسن نے 1960 میں پیش کیا تھا۔ خلائے بسیط میں کسی مخلوق اور اُس کی شاندار ذہانت کی تلاش کے حوالے سے یہ ٹیکنوسفیئرز غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386797</guid>
      <pubDate>Sat, 18 May 2024 15:27:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/181516518713cbc.png?r=152314" type="image/png" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/181516518713cbc.png?r=152314"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
