<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:34:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:34:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر ڈھونڈ نکالنے والے ترک ڈرون آقنجی کی کیا خصوصیات ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی شناخت جدید ڈرون کے ذریعے کی گئی ہے، جو کہ آقنجی ڈرون ہے۔ تاہم یہ ڈرون اپنے دلچسپ فیچرز کے باعث مقبول ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ ہیان ایرانی صوبے آزربائیجان سے واپس پر حادثے کا شکار ہوئے تھے، تاہم اب دونوں اعلیٰ عہدیداران کے حادثے میں جاں بحق ہونے سے متعلق تصدیق کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ پیر حسین کولیوند کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ ریسکیو آپریشن میں 73 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ ترکش ڈرون کی مدد سے دو ہاٹ مقامات کی شناخت ہوئی تھی، جہاں ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے ہائی ایلٹیٹیوڈ لانگ اینڈیورینس ایریئیل وہیل ’آقنجی‘ کی مدد سے جائے حادثہ کے مقام کی شناخت ممکن ہوئی ہے، ڈرون کی مدد سے حادثے کے مقام پر گرم درجہ حرارت کے باعث شناخت واضح ہو پائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386892/"&gt;ایرانی صدر کے حادثے سے ایک دن قبل آزربائیجان کے صدر کا حیران کن بیان وائرل&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386862"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ ایرانی ریوولیوشن گارڈز کارپس کے کمانڈر کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ہیٹ سورس کے مقام کو ہی ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام کے طور پر ڈرون نے ڈیٹیکٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آقنجی ڈرون دراصل ترکش ڈیفینس فورس ’بیکار‘ کی جانب سے مینوفیکچر کیا گیا ہے، جبکہ اس ڈرون کے پہلے تین یونٹس اگست 2021 میں ترکش آرمڈ فورسز میں شامل کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386882/"&gt;ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر حادثے پر صدر مملکت، وزیراعظم کا بیان سامنے آگیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آقنجی ڈرون میں 2 ٹربو پروپ انجنز موجود ہیں جو کہ 450 ہارس پاور یا 750 ہارس پاور سے لیس ہیں، جبکہ اس ڈرون میں الیکٹرانک اور ای سی ایم سسٹم کی سپورٹ بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382224"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آقنجی ڈرون میں ڈوئل سیٹلائٹ کمیونیکیشن  سسٹمز، ایئر ٹو ایئر ریڈار، کولیشن ایوائڈنس ریڈار اور ایڈوانس سینتھیٹک اپرچر ریڈار موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترکیہ کی جانب سے پہلی مرتبہ آقنجی ڈرون کو شمالی عراق کی گفاؤں اور پہاڑی علاقوں میں پناہ لینے والے پی کے کے دہشتگرد تنظیم کے ممبران کی تلاش کے لیے ترکش ملٹری کی جانب سے کامیابی سے استعمال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386883/"&gt;’ہارڈ لینڈنگ‘ کس چیز کا کوڈ ہے، ایرانی میڈیا صدر کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہونے پر یہ الفاظ کیوں دہرا رہا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ ترکیہ میں آنے والے 2023 کے زلزلے میں 9 آقنجی ڈرون تقریبا 1551 گھنٹے تک زلزلے سے متاثر زون میں گھومتے رہے اور امدادی ٹیموں کے لیے مدد فراہم کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر اس ڈرون میں نقصاندہ علاقوں کی نشاندہی، سرچ اور ریسکیو سپورٹ کے لیے اپ ڈیٹس اور ڈیٹا ٹیموں کو فراہم کرنے کا فیچر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ اس ڈرون میں ایکٹو الیکٹرانیکلی اسکینڈ ایرے موجود ہے، جسے ایم یو آر اے ڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سگنل انٹیلی جنس سوٹ (ایس آئی جی آئی این ٹی)، الیکٹرانک وار فئیر، سروئیلنس سسٹم، سیٹ کام موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="آقنجی-کی-تاریخ" href="#آقنجی-کی-تاریخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آقنجی کی تاریخ:&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/05/20111759004955a.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
تصویر بذریعہ: انادولو ایجنسی، ترکیہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آقنجی لفظ دراصل ترک زبان سے لیا گیا ہے، جس کا مصدر ہے آق مق۔ آق مق کے معنی ہیں ’گرایا جانا، انڈیلنا، جبکہ آقنجی کے معنی ہیں ’غزوہ، دشمن کے علاقے پر ناگہانی حملہ کرنے والا دستہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386881"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ آقنجی سلطنت عثمایہ کی ابتدائی صدیوں میں غیر منظم اور بے قاعدہ گھڑ سوار فوج تھی، جسے یورپ میں استعمال کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی شناخت جدید ڈرون کے ذریعے کی گئی ہے، جو کہ آقنجی ڈرون ہے۔ تاہم یہ ڈرون اپنے دلچسپ فیچرز کے باعث مقبول ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ روز ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ ہیان ایرانی صوبے آزربائیجان سے واپس پر حادثے کا شکار ہوئے تھے، تاہم اب دونوں اعلیٰ عہدیداران کے حادثے میں جاں بحق ہونے سے متعلق تصدیق کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ پیر حسین کولیوند کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ ریسکیو آپریشن میں 73 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ ترکش ڈرون کی مدد سے دو ہاٹ مقامات کی شناخت ہوئی تھی، جہاں ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا ہے۔</p>
<p>ترکیہ کے ہائی ایلٹیٹیوڈ لانگ اینڈیورینس ایریئیل وہیل ’آقنجی‘ کی مدد سے جائے حادثہ کے مقام کی شناخت ممکن ہوئی ہے، ڈرون کی مدد سے حادثے کے مقام پر گرم درجہ حرارت کے باعث شناخت واضح ہو پائی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30386892/">ایرانی صدر کے حادثے سے ایک دن قبل آزربائیجان کے صدر کا حیران کن بیان وائرل</a></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386862"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جبکہ ایرانی ریوولیوشن گارڈز کارپس کے کمانڈر کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ہیٹ سورس کے مقام کو ہی ہیلی کاپٹر حادثے کے مقام کے طور پر ڈرون نے ڈیٹیکٹ کیا۔</p>
<p>آقنجی ڈرون دراصل ترکش ڈیفینس فورس ’بیکار‘ کی جانب سے مینوفیکچر کیا گیا ہے، جبکہ اس ڈرون کے پہلے تین یونٹس اگست 2021 میں ترکش آرمڈ فورسز میں شامل کیے گئے تھے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30386882/">ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر حادثے پر صدر مملکت، وزیراعظم کا بیان سامنے آگیا</a></p>
<p>آقنجی ڈرون میں 2 ٹربو پروپ انجنز موجود ہیں جو کہ 450 ہارس پاور یا 750 ہارس پاور سے لیس ہیں، جبکہ اس ڈرون میں الیکٹرانک اور ای سی ایم سسٹم کی سپورٹ بھی موجود ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382224"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آقنجی ڈرون میں ڈوئل سیٹلائٹ کمیونیکیشن  سسٹمز، ایئر ٹو ایئر ریڈار، کولیشن ایوائڈنس ریڈار اور ایڈوانس سینتھیٹک اپرچر ریڈار موجود ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ترکیہ کی جانب سے پہلی مرتبہ آقنجی ڈرون کو شمالی عراق کی گفاؤں اور پہاڑی علاقوں میں پناہ لینے والے پی کے کے دہشتگرد تنظیم کے ممبران کی تلاش کے لیے ترکش ملٹری کی جانب سے کامیابی سے استعمال کیا گیا تھا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30386883/">’ہارڈ لینڈنگ‘ کس چیز کا کوڈ ہے، ایرانی میڈیا صدر کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہونے پر یہ الفاظ کیوں دہرا رہا ہے؟</a></p>
<p>جبکہ ترکیہ میں آنے والے 2023 کے زلزلے میں 9 آقنجی ڈرون تقریبا 1551 گھنٹے تک زلزلے سے متاثر زون میں گھومتے رہے اور امدادی ٹیموں کے لیے مدد فراہم کرتے رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حیرت انگیز طور پر اس ڈرون میں نقصاندہ علاقوں کی نشاندہی، سرچ اور ریسکیو سپورٹ کے لیے اپ ڈیٹس اور ڈیٹا ٹیموں کو فراہم کرنے کا فیچر موجود ہے۔</p>
<p>جبکہ اس ڈرون میں ایکٹو الیکٹرانیکلی اسکینڈ ایرے موجود ہے، جسے ایم یو آر اے ڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سگنل انٹیلی جنس سوٹ (ایس آئی جی آئی این ٹی)، الیکٹرانک وار فئیر، سروئیلنس سسٹم، سیٹ کام موجود ہے۔</p>
<h2><a id="آقنجی-کی-تاریخ" href="#آقنجی-کی-تاریخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آقنجی کی تاریخ:</h2>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/05/20111759004955a.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure>
تصویر بذریعہ: انادولو ایجنسی، ترکیہ</p>
<p>آقنجی لفظ دراصل ترک زبان سے لیا گیا ہے، جس کا مصدر ہے آق مق۔ آق مق کے معنی ہیں ’گرایا جانا، انڈیلنا، جبکہ آقنجی کے معنی ہیں ’غزوہ، دشمن کے علاقے پر ناگہانی حملہ کرنے والا دستہ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386881"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جبکہ آقنجی سلطنت عثمایہ کی ابتدائی صدیوں میں غیر منظم اور بے قاعدہ گھڑ سوار فوج تھی، جسے یورپ میں استعمال کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386909</guid>
      <pubDate>Mon, 20 May 2024 11:24:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/201111255de78a6.png?r=112223" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/201111255de78a6.png?r=112223"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: دائیں طرف، ترکش ڈرون آقانجی/ ترکش ویب سائٹ/ بائیں طرف، ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر جائے حادثہ پر/ اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
