<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:09:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:09:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب پر ہتک عزت بل 2024 کا اطلاق کسطرح ہوگا ؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386980/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میڈیا اور سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنے کا حکومتی اقدام صحافی برادری نے مسترد کردیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا منظور کردہ ہتک عزت بل 2024 کیا ہے اور یہ کن چیزوں کا احاطہ کرے گا ؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب اسمبلی نے گزشتہ روز اپوزیشن اور صحافیوں کے احتجاج کے باوجود ہتک عزت بل 2024 منظور کیا جبکہ اپوزیشن نے بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑیں اور صحافیوں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہتک عزت بل 2024 بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی، غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی بل کا اطلاق ہوگا،  ذاتی زندگی، عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی جانے والی خبروں پر بھی کارروائی ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہتک عزت کے کیسز کے لیے ٹربیونل قائم ہوں گے جو کہ 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہتک عزت بل کے تحت غلط خبر یا کردار کشی پر 30 لاکھ روپے کا جرمانہ  ہوگا، بل کا اطلاق فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر بھی ہوگا۔ آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام پر ہائی کورٹ بینچ کیس سن سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین اور خواجہ سراؤں کو قانونی معاونت کے لیے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت میسر ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میڈیا اور سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنے کا حکومتی اقدام صحافی برادری نے مسترد کردیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا منظور کردہ ہتک عزت بل 2024 کیا ہے اور یہ کن چیزوں کا احاطہ کرے گا ؟</strong></p>
<p>پنجاب اسمبلی نے گزشتہ روز اپوزیشن اور صحافیوں کے احتجاج کے باوجود ہتک عزت بل 2024 منظور کیا جبکہ اپوزیشن نے بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑیں اور صحافیوں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔</p>
<p>ہتک عزت بل 2024 بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی، غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا۔</p>
<p>یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی بل کا اطلاق ہوگا،  ذاتی زندگی، عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی جانے والی خبروں پر بھی کارروائی ہو گی۔</p>
<p>ہتک عزت کے کیسز کے لیے ٹربیونل قائم ہوں گے جو کہ 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہتک عزت بل کے تحت غلط خبر یا کردار کشی پر 30 لاکھ روپے کا جرمانہ  ہوگا، بل کا اطلاق فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر بھی ہوگا۔ آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام پر ہائی کورٹ بینچ کیس سن سکیں گے۔</p>
<p>خواتین اور خواجہ سراؤں کو قانونی معاونت کے لیے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت میسر ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386980</guid>
      <pubDate>Tue, 21 May 2024 09:50:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/210940466414104.webp?r=094938" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/210940466414104.webp?r=094938"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
