<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 05:04:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 05:04:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رکی پونٹنگ نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی آفر کیوں ٹھکرا دی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30387218/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے بھارتی ٹیم کی کوچنگ کی آفر ٹھکرا تے ہوئے  انکشاف کیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انہیں ہندوستانی ٹیم کا ہیڈکوچ بنانے کی آفر کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق آسٹریلوی کپتان بین الاقوامی کوچ بننے کے خواہشمند ہیں لیکن ابھی کسی بھی ٹیم کی کوچنگ سنبھالنے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکی پونٹنگ نے انکشاف کیا کہ ان سے بھارت کا اگلا ہیڈ کوچ بننے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس آفر کو محض ایک آپشن کے طور پر ہی دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرک انفو کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ ہیڈ کوچ کی تلاش میں مصروف عمل ہے اور اس ضمن میں درخواستوں کی آخری تاریخ 27مئی مقرر کی گئی ہے۔ تاہم رکی پونٹنگ سے رابطہ اور ان کے ممکنہ انکار کے بعد بھارت کو ہیڈ کوچ کی تلاش میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30277879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکی پونٹنگ نے کہا کہ وہ بھارت کے ہیڈ کوچ بننے کے لیے سوچ بچار کررہے ہیں، لیکن اس دوران ان کے دیگر موجودہ کام متاثر ہوسکتے ہیں۔ وہ اس وقت دہلی کیپٹلز میں ہیڈ کوچ اور آسٹریلیا میں ایک ٹیلی ویژن کے ساتھ منسلک ہیں، اس لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی مزید کوئی اور کام کرنے کا صحیح وقت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پونٹنگ نے آئی سی سی ریویو میں کہا کہ میں نے اس کے بارے میں بہت سی رپورٹس دیکھی ہیں۔ عام طور پر یہ چیزیں پہلے ہی سوشل میڈیا پر پاپ اپ ہوجاتی ہیں۔ لیکن بہرحال آئی پی ایل کے دوران ان کی دلچسپی جاننے کے لیے کچھ بات چیت ہوئی تھی کہ آیا میں بھارتی ٹیم کا ہیڈکوچ بننا چاہتا بھی ہوں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے سینئر کوچ بننا پسند کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک ان کی زندگی میں کچھ اور کام ہیں جو ضروری ہیں سب سے بڑھ کر گھر پر وقت گزارنا، اور اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہے کہ جب آپ بھارتی ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آئی پی ایل کی ٹیم میں شامل نہیں ہو سکتے، یہ چیز بھی ان کو ہیڈ کوچ بننے سے روک رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کسی بھی قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ سال کے 10 یا 11 ماہ کا کام ہے، اور اگر میں اسے کرنا چاہوں تو یہ میرے طرز زندگی اور ان چیزوں میں فٹ نہیں آئے گا، کیونکہ میں اپنا یہ طرز زندگی ترک نہیں کرنا چاہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے گوتم گمبھیر، اسٹیفن فلیمنگ اور جسٹن لینگر کو بھی ہیڈ کوچ کی آفر دی گئی ہے، بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ کا کردار تینوں فارمیٹس میں جولائی 2024 سے دسمبر 2027 تک ساڑھے 3 سال تک ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے بھارتی ٹیم کی کوچنگ کی آفر ٹھکرا تے ہوئے  انکشاف کیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انہیں ہندوستانی ٹیم کا ہیڈکوچ بنانے کی آفر کی تھی۔</strong></p>
<p>سابق آسٹریلوی کپتان بین الاقوامی کوچ بننے کے خواہشمند ہیں لیکن ابھی کسی بھی ٹیم کی کوچنگ سنبھالنے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔</p>
<p>رکی پونٹنگ نے انکشاف کیا کہ ان سے بھارت کا اگلا ہیڈ کوچ بننے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس آفر کو محض ایک آپشن کے طور پر ہی دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>کرک انفو کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ ہیڈ کوچ کی تلاش میں مصروف عمل ہے اور اس ضمن میں درخواستوں کی آخری تاریخ 27مئی مقرر کی گئی ہے۔ تاہم رکی پونٹنگ سے رابطہ اور ان کے ممکنہ انکار کے بعد بھارت کو ہیڈ کوچ کی تلاش میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30277879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رکی پونٹنگ نے کہا کہ وہ بھارت کے ہیڈ کوچ بننے کے لیے سوچ بچار کررہے ہیں، لیکن اس دوران ان کے دیگر موجودہ کام متاثر ہوسکتے ہیں۔ وہ اس وقت دہلی کیپٹلز میں ہیڈ کوچ اور آسٹریلیا میں ایک ٹیلی ویژن کے ساتھ منسلک ہیں، اس لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی مزید کوئی اور کام کرنے کا صحیح وقت نہیں ہے۔</p>
<p>پونٹنگ نے آئی سی سی ریویو میں کہا کہ میں نے اس کے بارے میں بہت سی رپورٹس دیکھی ہیں۔ عام طور پر یہ چیزیں پہلے ہی سوشل میڈیا پر پاپ اپ ہوجاتی ہیں۔ لیکن بہرحال آئی پی ایل کے دوران ان کی دلچسپی جاننے کے لیے کچھ بات چیت ہوئی تھی کہ آیا میں بھارتی ٹیم کا ہیڈکوچ بننا چاہتا بھی ہوں یا نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے سینئر کوچ بننا پسند کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک ان کی زندگی میں کچھ اور کام ہیں جو ضروری ہیں سب سے بڑھ کر گھر پر وقت گزارنا، اور اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہے کہ جب آپ بھارتی ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آئی پی ایل کی ٹیم میں شامل نہیں ہو سکتے، یہ چیز بھی ان کو ہیڈ کوچ بننے سے روک رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کسی بھی قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ سال کے 10 یا 11 ماہ کا کام ہے، اور اگر میں اسے کرنا چاہوں تو یہ میرے طرز زندگی اور ان چیزوں میں فٹ نہیں آئے گا، کیونکہ میں اپنا یہ طرز زندگی ترک نہیں کرنا چاہتا۔</p>
<p>واضح رہے بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے گوتم گمبھیر، اسٹیفن فلیمنگ اور جسٹن لینگر کو بھی ہیڈ کوچ کی آفر دی گئی ہے، بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ کا کردار تینوں فارمیٹس میں جولائی 2024 سے دسمبر 2027 تک ساڑھے 3 سال تک ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30387218</guid>
      <pubDate>Thu, 23 May 2024 12:50:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/23124806e07daf4.jpg?r=124838" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/23124806e07daf4.jpg?r=124838"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
