<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:32:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:32:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ میں ’آوارہ کتوں‘ سے متعلق بل پر ہنگامہ کیوں مچ گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30388670/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ میں کتوں کے خلاف اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے پر ترکیہ کی جانوروں کے حقوق کی تنظیم سمیت شہریوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ترکیہ کی جانب سے ایک قانون تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت سڑکوں پر گھومنے والے کتوں کے خلاف اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے موقف اپناتے ہوئے کہنا تھا کہ سڑک پر پھرنے والے کتے ٹریفک حادثات، ریبیز کی بیماری اور شہریوں پر حملے کا باعث بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ بل پارلیمنٹ میں آنے والے دنوں میں پیش کیا جائے گا، تاہم اس بل سسے متعلق خبر پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388528"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سایر سمیت دیگر جانوروں کے حقوق کے علم برداروں کی جانب سے کہنا تھا کہ گزشتہ 20 سال میں کتوں کی تعداد بڑھنے کی ذمہ دار اتھارٹیز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30388496/"&gt;ماں بچے کے ساتھ کیا کرتی تھی؟ خفیہ کیمرے کی ریکارڈنگ نے حیران کردیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانوروں کے حقوق کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے اس بل کے بعد کتوں کو مارا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ جانوروں کے حقوق کے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں، گلیوں سے کتوں کو اٹھائیں گے، مگر انہیں اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے حکومتی میڈیا کی جانب سے کتوں کے حملے کے حوالے سے خبریں شائع کی گئی تھیں، جبکہ روئیٹرز کے مطابق صدر اردگان کی جانب سے کتوں کے حملوں سے متعلق شکایات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، انقرہ میں 10 سالہ بچے کے کتے کے کاٹنے سے زخمی ہونے پر ترک صدر کی جانب سے دسمبر میں عمل درآمد کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکیہ میں کتوں کے خلاف اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے پر ترکیہ کی جانوروں کے حقوق کی تنظیم سمیت شہریوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں ترکیہ کی جانب سے ایک قانون تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت سڑکوں پر گھومنے والے کتوں کے خلاف اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے موقف اپناتے ہوئے کہنا تھا کہ سڑک پر پھرنے والے کتے ٹریفک حادثات، ریبیز کی بیماری اور شہریوں پر حملے کا باعث بن رہے ہیں۔</p>
<p>جبکہ بل پارلیمنٹ میں آنے والے دنوں میں پیش کیا جائے گا، تاہم اس بل سسے متعلق خبر پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388528"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب سایر سمیت دیگر جانوروں کے حقوق کے علم برداروں کی جانب سے کہنا تھا کہ گزشتہ 20 سال میں کتوں کی تعداد بڑھنے کی ذمہ دار اتھارٹیز ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30388496/">ماں بچے کے ساتھ کیا کرتی تھی؟ خفیہ کیمرے کی ریکارڈنگ نے حیران کردیا</a></p>
<p>جانوروں کے حقوق کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے اس بل کے بعد کتوں کو مارا جائے گا۔</p>
<p>جبکہ جانوروں کے حقوق کے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں، گلیوں سے کتوں کو اٹھائیں گے، مگر انہیں اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے حکومتی میڈیا کی جانب سے کتوں کے حملے کے حوالے سے خبریں شائع کی گئی تھیں، جبکہ روئیٹرز کے مطابق صدر اردگان کی جانب سے کتوں کے حملوں سے متعلق شکایات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، انقرہ میں 10 سالہ بچے کے کتے کے کاٹنے سے زخمی ہونے پر ترک صدر کی جانب سے دسمبر میں عمل درآمد کا عندیہ دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30388670</guid>
      <pubDate>Fri, 31 May 2024 10:19:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/31101556bfbd470.png?r=101807" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/31101556bfbd470.png?r=101807"/>
        <media:title>تصویربذریعہ: اے اے فوٹوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
