<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:42:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:42:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا نیا سیٹلائٹ عام لوگوں کے لیے کس طرح فائدہ مند ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30388696/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی جانب سے چین کی مدد سے جدید ترین کمیونیکیشن سیٹلائٹ ’ایم ایم ون‘ خلا میں لانچ کیا گیا ہے، پاک سیٹ ایم ایم ون اپنے اندر کئی خصوصیات رکھتا ہے، جن کی بنیاد پر پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کی کئی مشکلات بھی حل ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو یعنی سپیس اینڈ اپر ایٹماسفئیر ریسرچ کمیشن کی جانب سے کہنا تھا کہ سیٹلائٹ چینی شی چلانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا ہے، جو کہ جدید مواصلاتی آلات کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیٹلائٹ کی مدد سے پاکستان کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کی سہولت میں مدد مل سکے گا، سپارکو کی جانب سے بتانا تھا کہ سیٹلائٹ رواں برس جولائی یا اگست کے مہینے سے سروسز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیٹلائٹ کے باعث ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ جبکہ سپارکو سمیت ماہرین اسے گیم چینجر بھی تصور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388427"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امتنان الحق قاضی کا کہنا تھا کہ اس سیٹلائٹ کا وزن 5 ٹن ہے، جو کہ زمین سے تقریبا 30 سے 35 فیصد کے اوپر کمیونیکیشن سروسز ایک جگہ سے دوسری جگہ پہچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر امتنان الحق کے مطابق اس سیٹلائٹ میں ایسے آلات موجود ہیں، جن کی موجودگی سے ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جہاں زمینی انٹرنیٹ میسر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ سیٹلائٹ کا سروسز فراہم کرنے کے بعد زمینی انٹرنیٹ پر صارفین کا انحصار یا تو ختم ہو جائے گا یا پھر کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.aaj.tv/news/amp/30388427'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ اس سیٹلائٹ میں ہائی فریکوئنسی بینڈز کے درمیان رابطہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے میں مدد مل سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ دعویٰ کرتے ہوئے ڈاکٹر امتنان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیون کے صارفین کو بھی اسی انٹرنیٹ سے سروسز فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی جانب سے چین کی مدد سے جدید ترین کمیونیکیشن سیٹلائٹ ’ایم ایم ون‘ خلا میں لانچ کیا گیا ہے، پاک سیٹ ایم ایم ون اپنے اندر کئی خصوصیات رکھتا ہے، جن کی بنیاد پر پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کی کئی مشکلات بھی حل ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>سپارکو یعنی سپیس اینڈ اپر ایٹماسفئیر ریسرچ کمیشن کی جانب سے کہنا تھا کہ سیٹلائٹ چینی شی چلانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا ہے، جو کہ جدید مواصلاتی آلات کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا ہے۔</p>
<p>اس سیٹلائٹ کی مدد سے پاکستان کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کی سہولت میں مدد مل سکے گا، سپارکو کی جانب سے بتانا تھا کہ سیٹلائٹ رواں برس جولائی یا اگست کے مہینے سے سروسز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>سیٹلائٹ کے باعث ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ جبکہ سپارکو سمیت ماہرین اسے گیم چینجر بھی تصور کر رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388427"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امتنان الحق قاضی کا کہنا تھا کہ اس سیٹلائٹ کا وزن 5 ٹن ہے، جو کہ زمین سے تقریبا 30 سے 35 فیصد کے اوپر کمیونیکیشن سروسز ایک جگہ سے دوسری جگہ پہچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر امتنان الحق کے مطابق اس سیٹلائٹ میں ایسے آلات موجود ہیں، جن کی موجودگی سے ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جہاں زمینی انٹرنیٹ میسر نہیں۔</p>
<p>جبکہ سیٹلائٹ کا سروسز فراہم کرنے کے بعد زمینی انٹرنیٹ پر صارفین کا انحصار یا تو ختم ہو جائے گا یا پھر کم ہو جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.aaj.tv/news/amp/30388427'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>چونکہ اس سیٹلائٹ میں ہائی فریکوئنسی بینڈز کے درمیان رابطہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے میں مدد مل سکے گی۔</p>
<p>جبکہ دعویٰ کرتے ہوئے ڈاکٹر امتنان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیون کے صارفین کو بھی اسی انٹرنیٹ سے سروسز فراہم کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30388696</guid>
      <pubDate>Fri, 31 May 2024 11:51:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/31114057ea9ecbb.png?r=115152" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/31114057ea9ecbb.png?r=115152"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: اسپارکو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
