<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:40:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:40:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اسٹیٹ بینک شرح سود میں کمی کرنے جارہا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30388822/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آئندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان 10 جون کو کرے گا۔  مہنگائی کی شرح میں کمی کے سبب مانیٹری پالیسی میں نرمی کا انتخاب کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتکارپالیسی کی شرح میں 220پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے ہیں   ممکنہ طور پر  یہ امید کیا جا رہپی ہے کہ شرح سود 20 فیصد تک کم کردیا جائے گا جو آخری مرتبہ مارچ تا اپریل 2023 میں دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق   میں اپنے سروے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 73 فیصد افراد اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقع رکھتے ہیں جبکہ بقیہ 27 فیصد کو کسی تبدیلی کی توقع نہیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے 29 اپریل کو اپنے آخری اعلان میں بنیادی شرح کو 22 فیصد پر برقرار رکھا تھا اور یہ شرح برقرار رکھنے کا اس کا مسلسل ساتواں فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے کہا تھا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی واقعات نے بھی ان کے نقطہ نظر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں خیال ظاہرکیا ہے کہ شرح میں کمی کا اس کا تخمینہ کئی سازگار اقتصادی اشاریوں یعنی کم افراط زر، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور حکومتی پیداوار مانیٹری موقف میں تبدیلی کے آغاز کے لیے سازگار ماحول کی تجویز  دیتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30375655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس سالانہ بنیادوں پر کم ہوکر 17.3 فیصد تک آیا ہے، ادارہ شماریات کی جانب سے یکم اپریل کو جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ مانیٹری نرمی کا دور چل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں مئی 2024 میں مہنگائی مزید کم ہو کر 13 فیصد تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی  ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن نے  شائع ہونے والے اپنے  آؤٹ لک رپورٹ میں مئی 2024 میں افراط زر 13.5-14.5 فیصد کے آس پاس رہنے کی پیش گوئی بھی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جون 2024 تک 12.5-13.5 فیصد تک کمی کی توقع کے ساتھ بتدریج نرمی کے امکانات ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آئندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان 10 جون کو کرے گا۔  مہنگائی کی شرح میں کمی کے سبب مانیٹری پالیسی میں نرمی کا انتخاب کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>صنعتکارپالیسی کی شرح میں 220پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے ہیں   ممکنہ طور پر  یہ امید کیا جا رہپی ہے کہ شرح سود 20 فیصد تک کم کردیا جائے گا جو آخری مرتبہ مارچ تا اپریل 2023 میں دیکھا گیا تھا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق   میں اپنے سروے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 73 فیصد افراد اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقع رکھتے ہیں جبکہ بقیہ 27 فیصد کو کسی تبدیلی کی توقع نہیں،</p>
<p>مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے 29 اپریل کو اپنے آخری اعلان میں بنیادی شرح کو 22 فیصد پر برقرار رکھا تھا اور یہ شرح برقرار رکھنے کا اس کا مسلسل ساتواں فیصلہ ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے کہا تھا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی واقعات نے بھی ان کے نقطہ نظر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں خیال ظاہرکیا ہے کہ شرح میں کمی کا اس کا تخمینہ کئی سازگار اقتصادی اشاریوں یعنی کم افراط زر، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور حکومتی پیداوار مانیٹری موقف میں تبدیلی کے آغاز کے لیے سازگار ماحول کی تجویز  دیتا ہے ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30375655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اپریل کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس سالانہ بنیادوں پر کم ہوکر 17.3 فیصد تک آیا ہے، ادارہ شماریات کی جانب سے یکم اپریل کو جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ مانیٹری نرمی کا دور چل رہا ہے۔</p>
<p>اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں مئی 2024 میں مہنگائی مزید کم ہو کر 13 فیصد تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی  ۔</p>
<p>فنانس ڈویژن نے  شائع ہونے والے اپنے  آؤٹ لک رپورٹ میں مئی 2024 میں افراط زر 13.5-14.5 فیصد کے آس پاس رہنے کی پیش گوئی بھی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جون 2024 تک 12.5-13.5 فیصد تک کمی کی توقع کے ساتھ بتدریج نرمی کے امکانات ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30388822</guid>
      <pubDate>Fri, 31 May 2024 22:11:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/3122100664660be.png?r=221107" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/3122100664660be.png?r=221107"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
