<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 03:08:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 03:08:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیس اہلکار کا قتل، جرمنی نے افغان باشندوں کو ملک سے نکالنے کا ارادہ ظاہر کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30389630/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی ان افغان تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنے پر غور کر رہا ہے جو ملکی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی میں گزشتہ ہفتے چاقو حملے میں ایک پولیس افسر کی ہلاکت کے بعد جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے ہجرت پر مزید سخت لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئٹرز کے مطابق اس طرح کا اقدام متنازع ہوگا کیونکہ جرمنی لوگوں کو ان ممالک میں واپس نہیں بھیجتا جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30389475"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے افغانوں کی ملک بدری بند کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد از جلد فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30389040/"&gt;فرانس میں ہتھیاروں کی عالمی نمائش میں اسرائیلی کمپنیوں کی شرکت پر پابندی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نینسی فیزر نے صحافیوں کو کہا کہ ’یہ بات میرے لیے واضح ہے، جو لوگ جرمنی کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں، انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جانا چاہیے‘، اس میں افغانستان اور شام میں لوگوں کو بھیجنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’میں اس بات پر بھی پوری طرح اٹل ہوں کہ جرمنی کے سکیورٹی مفادات واضح طور پر ان متاثر کرنے والوں کے مفادات سے زیادہ ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30389300/"&gt;بھارتی الیکشن میں مسلمانوں نے کس کو ووٹ دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی دوسرے ممالک میں ملک بدری کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30389223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو جرمنی کے شہر مانہیم میں ایک اسلام مخالف تقریب کے دوران افغانستان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان کے چاقو سے حملے میں چھ افراد شدید زخمی ہوئے تھے اور ایک پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا، جو جرمنی میں غیر قانونی طور پر مقیم نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی ان افغان تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنے پر غور کر رہا ہے جو ملکی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔</strong></p>
<p>جرمنی میں گزشتہ ہفتے چاقو حملے میں ایک پولیس افسر کی ہلاکت کے بعد جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے ہجرت پر مزید سخت لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔</p>
<p>روئٹرز کے مطابق اس طرح کا اقدام متنازع ہوگا کیونکہ جرمنی لوگوں کو ان ممالک میں واپس نہیں بھیجتا جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30389475"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے افغانوں کی ملک بدری بند کر دی تھی۔</p>
<p>جرمن وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد از جلد فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30389040/">فرانس میں ہتھیاروں کی عالمی نمائش میں اسرائیلی کمپنیوں کی شرکت پر پابندی</a></strong></p>
<p>وزیر داخلہ نینسی فیزر نے صحافیوں کو کہا کہ ’یہ بات میرے لیے واضح ہے، جو لوگ جرمنی کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں، انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جانا چاہیے‘، اس میں افغانستان اور شام میں لوگوں کو بھیجنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’میں اس بات پر بھی پوری طرح اٹل ہوں کہ جرمنی کے سکیورٹی مفادات واضح طور پر ان متاثر کرنے والوں کے مفادات سے زیادہ ہیں‘۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30389300/">بھارتی الیکشن میں مسلمانوں نے کس کو ووٹ دیا</a></strong></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی دوسرے ممالک میں ملک بدری کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30389223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جمعے کو جرمنی کے شہر مانہیم میں ایک اسلام مخالف تقریب کے دوران افغانستان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان کے چاقو سے حملے میں چھ افراد شدید زخمی ہوئے تھے اور ایک پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔</p>
<p>حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا، جو جرمنی میں غیر قانونی طور پر مقیم نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30389630</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jun 2024 19:54:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/041950023863f2f.webp?r=195153" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/041950023863f2f.webp?r=195153"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
