<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 04 May 2026 19:19:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 04 May 2026 19:19:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ برہم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30390004/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شہری محمد سلیم کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس برہم ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعات کو سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عقیل احمد عباسی کا کہنا تھا کہ کسی کا بھی شناخت کارڈ بلاک کردیا جاتا ہے۔ ان کو پاکستان کا ساتھ دینے پر سزا دی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید خفگی کے عالم میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حقوق نہیں دینے تو سب کو جہاز میں بٹھاکر سمندر میں پھینک آؤ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نادرا‘ کی وکیل ثمینہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ محمد سلیم نے1991 میں قومی شناختی کارڈ بنویا تھا۔ تب کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہیں ہوا کرتے تھے۔ شک کی بنیاد پر درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30333744"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا کی وکیل کا کہنا تھا کہ اگر 1971 سے پہلے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں تو جانچ پڑتال کے بعد شناختی کارڈ کی تجدید کرائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد سلیم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 1969 کا پاسپورٹ موجود ہے۔ وہ پاکستانی ہیں، بنگلہ دیشی نہیں۔ قومی شناختی کارڈ بلاک کرکے حقوق سلب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے نادرا کو دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ 13 جون پیش رفت رپورٹ طلب کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شہری محمد سلیم کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس برہم ہوگئے۔</strong></p>
<p>جمعات کو سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عقیل احمد عباسی کا کہنا تھا کہ کسی کا بھی شناخت کارڈ بلاک کردیا جاتا ہے۔ ان کو پاکستان کا ساتھ دینے پر سزا دی جارہی ہے۔</p>
<p>شدید خفگی کے عالم میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حقوق نہیں دینے تو سب کو جہاز میں بٹھاکر سمندر میں پھینک آؤ۔</p>
<p>’نادرا‘ کی وکیل ثمینہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ محمد سلیم نے1991 میں قومی شناختی کارڈ بنویا تھا۔ تب کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہیں ہوا کرتے تھے۔ شک کی بنیاد پر درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30333744"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نادرا کی وکیل کا کہنا تھا کہ اگر 1971 سے پہلے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں تو جانچ پڑتال کے بعد شناختی کارڈ کی تجدید کرائی جاسکتی ہے۔</p>
<p>محمد سلیم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 1969 کا پاسپورٹ موجود ہے۔ وہ پاکستانی ہیں، بنگلہ دیشی نہیں۔ قومی شناختی کارڈ بلاک کرکے حقوق سلب کیے گئے ہیں۔</p>
<p>سندھ ہائی کورٹ نے نادرا کو دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ 13 جون پیش رفت رپورٹ طلب کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30390004</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Jun 2024 13:44:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/06134414795d17b.webp?r=134439" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/06134414795d17b.webp?r=134439"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
