<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:47:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:47:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیار ہوجائیں!!! ایک بڑا ستارہ پھٹنے والا ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30390493/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ستاروں کی دنیا کے حوالے سے ایک دلچسپ خبر نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں بتایا جا رہا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ستارے میں دھماکا ہونے جا رہا ہے جسے انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق متوقع دھماکے کے باعث آسمان پر روشنی ہوگی، جسے زمین سے بھی دیکھا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین فلکیات کے مطابق نووا نامی ستارہ رات کے اندھیرے میں شمالی کراؤن میں پھٹے گا، جس کے باعث رنگین روشنی پیدا ہوگی، جو کہ زمین پر موجود انسان بھی دیکھ سکیں گے، تاہم یہ روشنی کہاں کہاں دیکھی جا سکے گی، اس حوالے سے نہیں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا کے گاڈ ڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر سے تعلق رکھنے والی ریبیکا ہاؤنسیل کا کہنا تھا کہ یہ زندگی میں ایک بار ہونے والا واقعہ ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے کئی دیگر اسٹرونامرز بھی سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30390409"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستاروں میں ہونے والے دھماکوں کو ’ٹی کرونے بوریلس‘ کہا جاتا ہے جو کہ زمین سے 3 ہزار لائٹ ائیرز کی دوری پر واقع ہے۔ جو کہ سفید مداروں میں سرخ روشنی کی طرح ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سرخ روشنی میں ہائیڈروجن موجود ہوتا ہے، جو کہ باہر کی طرف نکلتا ہے، جس کے باعث تھرمو نیوکلئیر دھماکا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30389640/"&gt;بادلوں کے درمیان پراسرار سوراخ نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری مرتبہ ستاروں میں دھماکا 1946 میں ہوا تھا، جبکہ دھماکے سے ایک سال قبل خلا میں غیر معمولی حرکت بھی دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30390055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹروپارٹیکل فزیکس لیبارٹری کی سربراہ الزتبھ ہیس کہتی ہیں کہ عام طور پر نووا میں ہونے والے دھماکے خاص اور رنگین ہوتے ہیں تاہم یہ کافی دور فاصلے پر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ کافی قریبی معلوم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی آنکھیں اسے دیکھ پائیں گی۔ تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ستاروں کی دنیا کے حوالے سے ایک دلچسپ خبر نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں بتایا جا رہا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ستارے میں دھماکا ہونے جا رہا ہے جسے انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق متوقع دھماکے کے باعث آسمان پر روشنی ہوگی، جسے زمین سے بھی دیکھا جا سکے گا۔</p>
<p>ماہرین فلکیات کے مطابق نووا نامی ستارہ رات کے اندھیرے میں شمالی کراؤن میں پھٹے گا، جس کے باعث رنگین روشنی پیدا ہوگی، جو کہ زمین پر موجود انسان بھی دیکھ سکیں گے، تاہم یہ روشنی کہاں کہاں دیکھی جا سکے گی، اس حوالے سے نہیں بتایا گیا ہے۔</p>
<p>ناسا کے گاڈ ڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر سے تعلق رکھنے والی ریبیکا ہاؤنسیل کا کہنا تھا کہ یہ زندگی میں ایک بار ہونے والا واقعہ ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے کئی دیگر اسٹرونامرز بھی سامنے آئیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30390409"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ستاروں میں ہونے والے دھماکوں کو ’ٹی کرونے بوریلس‘ کہا جاتا ہے جو کہ زمین سے 3 ہزار لائٹ ائیرز کی دوری پر واقع ہے۔ جو کہ سفید مداروں میں سرخ روشنی کی طرح ہوتا ہے۔</p>
<p>اس سرخ روشنی میں ہائیڈروجن موجود ہوتا ہے، جو کہ باہر کی طرف نکلتا ہے، جس کے باعث تھرمو نیوکلئیر دھماکا ہوتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30389640/">بادلوں کے درمیان پراسرار سوراخ نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا</a></p>
<p>آخری مرتبہ ستاروں میں دھماکا 1946 میں ہوا تھا، جبکہ دھماکے سے ایک سال قبل خلا میں غیر معمولی حرکت بھی دیکھی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30390055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسٹروپارٹیکل فزیکس لیبارٹری کی سربراہ الزتبھ ہیس کہتی ہیں کہ عام طور پر نووا میں ہونے والے دھماکے خاص اور رنگین ہوتے ہیں تاہم یہ کافی دور فاصلے پر ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ کافی قریبی معلوم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی آنکھیں اسے دیکھ پائیں گی۔ تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30390493</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Jun 2024 13:56:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/0813483755709d5.png?r=135120" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/0813483755709d5.png?r=135120"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: روبن ڈینئیل/ کیرنیگی انسٹی ٹیوشن برائے سائنس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
