<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی ویزے کیلئے پاکستانی بینک اسٹیٹمنٹ نا قابل قبول، حقیقت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30392003/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پر ایک مراسلہ گردش کررہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ برطانیہ اب ویزہ یا امیگریشن کی درخواستوں کے لیے بڑے پاکستانی بینکوں سے مالی دستاویزات قبول نہیں کرے گا اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ بشمول IELTS کو پاکستانی طلبہ کے لیے ناقابل قبول تصور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ مراسلہ جعلی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جعلی مراسلے پر برطانوی ویزا اینڈ امیگریشن کی اسٹیمپ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مبینہ طور پر یو کے ویزا اینڈ امیگریشن کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ پاکستانی بینکوں کے اسٹیٹمنٹ اب برطانیہ کے ویزا درخواستوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/150942581c49966.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جعلی مراسلے میں 9 بڑے بینکوں کے نام بھی درج ہیں۔ اس میں برطانیہ کی طرف سے مبینہ طور پر مسترد کیے گئے انگریزی زبان کے ٹیسٹ بھی درج کیے گئے، بشمول Oxford ELLT Digital، IELTS Life Skills، اور Pearson Test of English۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن نے خط کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی کوئی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ہائی کمیشن نے ایکس اکاؤنٹ پر بتایاکہ اگر آپ کو یہ جعلی مراسلہ ملے تو براہ کرم اسے ڈیلیٹ کردیں، جو پوسٹ کرے اس کو بتائیں کہ یہ جعلی ہے اور اس کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/1509415115f3790.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پر ایک مراسلہ گردش کررہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ برطانیہ اب ویزہ یا امیگریشن کی درخواستوں کے لیے بڑے پاکستانی بینکوں سے مالی دستاویزات قبول نہیں کرے گا اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ بشمول IELTS کو پاکستانی طلبہ کے لیے ناقابل قبول تصور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ مراسلہ جعلی ہے۔</strong></p>
<p>جعلی مراسلے پر برطانوی ویزا اینڈ امیگریشن کی اسٹیمپ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مبینہ طور پر یو کے ویزا اینڈ امیگریشن کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ پاکستانی بینکوں کے اسٹیٹمنٹ اب برطانیہ کے ویزا درخواستوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/150942581c49966.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اس جعلی مراسلے میں 9 بڑے بینکوں کے نام بھی درج ہیں۔ اس میں برطانیہ کی طرف سے مبینہ طور پر مسترد کیے گئے انگریزی زبان کے ٹیسٹ بھی درج کیے گئے، بشمول Oxford ELLT Digital، IELTS Life Skills، اور Pearson Test of English۔</p>
<p>اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن نے خط کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی کوئی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔</p>
<p>برطانوی ہائی کمیشن نے ایکس اکاؤنٹ پر بتایاکہ اگر آپ کو یہ جعلی مراسلہ ملے تو براہ کرم اسے ڈیلیٹ کردیں، جو پوسٹ کرے اس کو بتائیں کہ یہ جعلی ہے اور اس کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/1509415115f3790.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30392003</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Jun 2024 10:37:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/150953301b41c18.jpg?r=095342" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/150953301b41c18.jpg?r=095342"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
