<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 03:33:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 03:33:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پلاسٹک ’کینڈی‘ جو میدان جنگ میں ہر یوکرینی فوجی کی زندگی بچانے کیلئے ضروری ہوگئی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30392284/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس اور یوکرین کے درمیان چھڑی جنگ کو دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اس جنگ میں کئی طرح کے جدید اور جگاڑ سے بنے ہتھیاروں کا استعمال ہو رہا ہے، لیکن ایک چیز ایسی ہے جس کے بغیر کوئی یوکرینی فوجی میدان جنگ میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس چیز کی یہاں بات کی جا رہی ہے وہ ہے ”کینڈی“، لیکن یہ کوئی کھانے والی ٹافی یا میٹھی چیز نہیں بلکہ ایک ایسی ڈیوائس ہے جو ڈرونز کا پتا لگا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینڈی پلاسٹک کے ایک چھوٹے سے ڈبے جیسا ہے جس میں ایک سکرین اور اینٹینا لگا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30390286"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی سپاہی محاذ پر جانے سے پہلے ہر قیمت پر اسے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی زبان میں اس کا نام سکوروک (Tsukorok) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/1617432992d9305.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس ڈرونز کو اہم اہداف جیسے ہوائی جہاز، فضائی دفاعی نظام اور انہیں بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی اور نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے یوکرینی سپاہیوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ ان کے اوپر اڑنے والی چیز روسی ڈرون تو نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے مورچوں پر ایک چھوٹا ڈرون ڈیٹیکٹر زندگی اور موت کے بیچ کا فرق ثابت ہوسکتا ہے۔ جو کسی بھی ڈرون کی موجودگی کی اطلاع دے سکتا ہے اور فوج کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے یا ڈرون کے نشانے پر موجود گاڑی میں بیٹھے افراد کو فوراً باہر نکلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق فوجی ریڈیو ٹیکنالوجی کے شعبے کے ماہر اور مشیر سرگئی بیسکرسٹنوف کہتے ہیں کہ ”کینڈی“ کوئی مثالی آلہ نہیں لیکن یوکرین کی فوج کے لیے یہ ایک سادہ اور سستا حل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30300061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”کینڈی“ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سادہ اور کم قیمت ہونا ہے۔ اس ڈرون ڈیٹیکٹر کی قیمت 2400 ریونیا ہے جو محض 60 ڈالر بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا کام کرنے کا طریقہ کار بہت سادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ڈرون اور آپریٹر کنسول کا آپس میں رابطہ ریڈیو کی لہروں کے ذریعے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ڈرون کو ہدایت ملتی ہے کہ اس نے کس سمت میں جانا ہے اور وہ اپنے آپریٹر کو ویڈیو اور ٹیلی میٹری سگنلز کے ذریعے ڈرون کی حالت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو اور ٹیلی میٹری دونوں سٹریمز یا ان میں سے کم از کم ایک کو پکڑا جا سکتا ہے کیونکہ یہ سگنل تمام سمتوں میں خارج ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ہم وہی رسیور استعمال کیا جاتا جو آپریٹر کے کنسول پر ہوتا ہے اور اگر سگنل کے پیرامیٹرز کو صحیح طریقے سے منتخب کیا جائے تو اسے باآسانی پکڑا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگنل پیرامیٹرز صرف فریکوئنسی پر مشتمل نہیں ہوتے بلکہ ان میں تین مزید اشارے بھی شامل ہوتے ہیں، ان پیرامیٹرز کی بنیاد پر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ یہ کس قسم کا ڈرون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی فوج کے پاس موجود منفرد پیرامیٹرز کی معلومات کی بنیاد وہ پتہ لگانے میں کامیاب رہتے ہیں کہ آنے والا روسی ڈرون اورلان، ایلرون، زالا اور سپر کیم جیسے جاسوس ڈرون ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ڈیٹابیس کی بنیاد پر ڈیٹیکٹر لانسیٹ کامیکازی ڈرون اور چھوٹے چینی ماویکس کے درمیان بھی فرق کر پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روس اور یوکرین کے درمیان چھڑی جنگ کو دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اس جنگ میں کئی طرح کے جدید اور جگاڑ سے بنے ہتھیاروں کا استعمال ہو رہا ہے، لیکن ایک چیز ایسی ہے جس کے بغیر کوئی یوکرینی فوجی میدان جنگ میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔</strong></p>
<p>جس چیز کی یہاں بات کی جا رہی ہے وہ ہے ”کینڈی“، لیکن یہ کوئی کھانے والی ٹافی یا میٹھی چیز نہیں بلکہ ایک ایسی ڈیوائس ہے جو ڈرونز کا پتا لگا سکتی ہے۔</p>
<p>کینڈی پلاسٹک کے ایک چھوٹے سے ڈبے جیسا ہے جس میں ایک سکرین اور اینٹینا لگا ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30390286"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یوکرینی سپاہی محاذ پر جانے سے پہلے ہر قیمت پر اسے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>یوکرینی زبان میں اس کا نام سکوروک (Tsukorok) ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/1617432992d9305.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>روس ڈرونز کو اہم اہداف جیسے ہوائی جہاز، فضائی دفاعی نظام اور انہیں بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی اور نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے یوکرینی سپاہیوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ ان کے اوپر اڑنے والی چیز روسی ڈرون تو نہیں؟</p>
<p>اگلے مورچوں پر ایک چھوٹا ڈرون ڈیٹیکٹر زندگی اور موت کے بیچ کا فرق ثابت ہوسکتا ہے۔ جو کسی بھی ڈرون کی موجودگی کی اطلاع دے سکتا ہے اور فوج کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے یا ڈرون کے نشانے پر موجود گاڑی میں بیٹھے افراد کو فوراً باہر نکلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>بی بی سی کے مطابق فوجی ریڈیو ٹیکنالوجی کے شعبے کے ماہر اور مشیر سرگئی بیسکرسٹنوف کہتے ہیں کہ ”کینڈی“ کوئی مثالی آلہ نہیں لیکن یوکرین کی فوج کے لیے یہ ایک سادہ اور سستا حل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30300061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>”کینڈی“ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سادہ اور کم قیمت ہونا ہے۔ اس ڈرون ڈیٹیکٹر کی قیمت 2400 ریونیا ہے جو محض 60 ڈالر بنتی ہے۔</p>
<p>اس کا کام کرنے کا طریقہ کار بہت سادہ ہے۔</p>
<p>ہر ڈرون اور آپریٹر کنسول کا آپس میں رابطہ ریڈیو کی لہروں کے ذریعے ہوتا ہے۔</p>
<p>ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ڈرون کو ہدایت ملتی ہے کہ اس نے کس سمت میں جانا ہے اور وہ اپنے آپریٹر کو ویڈیو اور ٹیلی میٹری سگنلز کے ذریعے ڈرون کی حالت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ویڈیو اور ٹیلی میٹری دونوں سٹریمز یا ان میں سے کم از کم ایک کو پکڑا جا سکتا ہے کیونکہ یہ سگنل تمام سمتوں میں خارج ہوتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا ہم وہی رسیور استعمال کیا جاتا جو آپریٹر کے کنسول پر ہوتا ہے اور اگر سگنل کے پیرامیٹرز کو صحیح طریقے سے منتخب کیا جائے تو اسے باآسانی پکڑا جاسکتا ہے۔</p>
<p>سگنل پیرامیٹرز صرف فریکوئنسی پر مشتمل نہیں ہوتے بلکہ ان میں تین مزید اشارے بھی شامل ہوتے ہیں، ان پیرامیٹرز کی بنیاد پر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ یہ کس قسم کا ڈرون ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30382512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یوکرینی فوج کے پاس موجود منفرد پیرامیٹرز کی معلومات کی بنیاد وہ پتہ لگانے میں کامیاب رہتے ہیں کہ آنے والا روسی ڈرون اورلان، ایلرون، زالا اور سپر کیم جیسے جاسوس ڈرون ہیں۔</p>
<p>اس ڈیٹابیس کی بنیاد پر ڈیٹیکٹر لانسیٹ کامیکازی ڈرون اور چھوٹے چینی ماویکس کے درمیان بھی فرق کر پاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30392284</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Jun 2024 17:48:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/161743199a450a2.webp?r=174627" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/161743199a450a2.webp?r=174627"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
