<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:47:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:47:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کے طیارے میں خرابی، عام پرواز سے ٹوکیو پہنچے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30392383/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان جاتے ہوئے نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کا طیارہ خراب ہوگیا۔ رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کا طیارہ فیول لینے کے لیے پاپوا نیو گنی میں رُکا تھا۔ رائل نیوی لینڈ کے طیارے کی جگہ وزیرِ اعظم کو عام تجارتی پرواز کے ذریعے ٹوکیو روانہ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کرسٹوفرلکسن رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کے بوئنگ 757 طیارے میں جارہے تھے۔ پاپوا نیو گنی کے ایئر پورٹ پر طیارہ اسٹارٹ نہ کیا جاسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹوفر لکسن عام تجارتی پرواز سے ٹوکیو پہنچے۔ وہ جاپان میں چار دن گزاریں گے۔ اس دوران سرکاری ملاقاتوں کے علاوہ وہ کچھ وقت سیر و تفریح کے لیے بھی نکالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کے ساتھ صحافیوں اور کاروباری شخصیات کی ٹیم بھی تھی۔ یہ سب لوگ مورسبی کے ایئر پورٹ پر پھنس کر رہ گئے جبکہ وزیرِ اعظم جاپان چلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/39126"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کے 2 بوئنگ 757 تیس سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی مسلح افواج کو جدید ترین آلات اور ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ اسے تیزی سے ناکارہ ہوتے ہوئے ہتھیاروں اور آلات سے نپٹنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کے وزیرِ دفاع جیوڈِتھ کولنز نے ریڈیو اسٹیشن نیوز ٹاک زیڈ بی کو بتایا کہ ایئر فورس کے طیاروں کی تکنیکی خرابیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ اب وزارتِ دفاع نے وزیرِ اعظم اور ان کے ساتھیوں کے لیے عام تجارتی پروازوں کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان جاتے ہوئے نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کا طیارہ خراب ہوگیا۔ رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کا طیارہ فیول لینے کے لیے پاپوا نیو گنی میں رُکا تھا۔ رائل نیوی لینڈ کے طیارے کی جگہ وزیرِ اعظم کو عام تجارتی پرواز کے ذریعے ٹوکیو روانہ کیا گیا۔</strong></p>
<p>نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کرسٹوفرلکسن رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کے بوئنگ 757 طیارے میں جارہے تھے۔ پاپوا نیو گنی کے ایئر پورٹ پر طیارہ اسٹارٹ نہ کیا جاسکا۔</p>
<p>کرسٹوفر لکسن عام تجارتی پرواز سے ٹوکیو پہنچے۔ وہ جاپان میں چار دن گزاریں گے۔ اس دوران سرکاری ملاقاتوں کے علاوہ وہ کچھ وقت سیر و تفریح کے لیے بھی نکالیں گے۔</p>
<p>نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کے ساتھ صحافیوں اور کاروباری شخصیات کی ٹیم بھی تھی۔ یہ سب لوگ مورسبی کے ایئر پورٹ پر پھنس کر رہ گئے جبکہ وزیرِ اعظم جاپان چلے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/39126"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کے 2 بوئنگ 757 تیس سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی مسلح افواج کو جدید ترین آلات اور ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ اسے تیزی سے ناکارہ ہوتے ہوئے ہتھیاروں اور آلات سے نپٹنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>نیوزی لینڈ کے وزیرِ دفاع جیوڈِتھ کولنز نے ریڈیو اسٹیشن نیوز ٹاک زیڈ بی کو بتایا کہ ایئر فورس کے طیاروں کی تکنیکی خرابیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ اب وزارتِ دفاع نے وزیرِ اعظم اور ان کے ساتھیوں کے لیے عام تجارتی پروازوں کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30392383</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Jun 2024 12:32:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/171213081dbcd7c.webp?r=123206" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/171213081dbcd7c.webp?r=123206"/>
        <media:title>نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
