<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:38:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:38:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئس پیس سمٹ کے اعلامیے پر 82 ممالک نے دستخط کردیے، بھارت شامل نہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30392402/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئٹزر لینڈ کے شہر برجنسٹاک میں سوئس پیس سمٹ کے موقع پر جاری کیے جانے والے اعلامیے پر 82 ممالک نے دستخط کردیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت، آرمینیا، سعودی عربیہ، لیبیا، انڈونیشیا، بحرین، کولمبیا، جنوبی افریقا، تھائی لینڈ، میکسیکو، چین اور متحدہ عرب امارات دستخط نہ کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ بھارت کا موقف یہ تھا کہ اس قضیے کے تمام فریقوں کو شرکت کی دعوت دی جانی چاہیے تھی۔ یاد رہے کہ روس کو بلایا ہی نہیں گیا تھا۔ نئی دہلی نے اسی لیے اعلامیے پر دستخط سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 اور 16 جون کو برجنسٹاک میں 100 ممالک اور نمایاں عالمی تنظیموں کے نمائندے جمع ہوئے اور یوکرین میں امن کی بحالی سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ ساتھ ہی یوکرین کو روس سے لڑتے رہنے کے قابل بنانے پر بھی غور و خوض کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ پاکستان اور برازیل نے اس سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں اسرائیل نے اپنا نمائندہ بھیجا تاہم اس نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے یا دستاویز پر دستخط کرنے والی تنظیموں میں کونسل آف یورپ، یورپی کمیشن، یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کونسل شامل ہیں۔ دستاویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ روس اپنے زیرِ تسلط زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ یوکرین کو واپس کرے، یوکرین میں خوراک کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے، تمام بندر گاہیں واپس کرے، تمام جنگی قیدی رہا کرے ار یوکرین سے نکالے جانے والے تمام بچوں کی واپسی ممکن بنائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئٹزر لینڈ کے شہر برجنسٹاک میں سوئس پیس سمٹ کے موقع پر جاری کیے جانے والے اعلامیے پر 82 ممالک نے دستخط کردیے۔</strong></p>
<p>بھارت، آرمینیا، سعودی عربیہ، لیبیا، انڈونیشیا، بحرین، کولمبیا، جنوبی افریقا، تھائی لینڈ، میکسیکو، چین اور متحدہ عرب امارات دستخط نہ کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ بھارت کا موقف یہ تھا کہ اس قضیے کے تمام فریقوں کو شرکت کی دعوت دی جانی چاہیے تھی۔ یاد رہے کہ روس کو بلایا ہی نہیں گیا تھا۔ نئی دہلی نے اسی لیے اعلامیے پر دستخط سے گریز کیا۔</p>
<p>15 اور 16 جون کو برجنسٹاک میں 100 ممالک اور نمایاں عالمی تنظیموں کے نمائندے جمع ہوئے اور یوکرین میں امن کی بحالی سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ ساتھ ہی یوکرین کو روس سے لڑتے رہنے کے قابل بنانے پر بھی غور و خوض کیا گیا۔</p>
<p>روس کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ پاکستان اور برازیل نے اس سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں اسرائیل نے اپنا نمائندہ بھیجا تاہم اس نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔</p>
<p>اعلامیے یا دستاویز پر دستخط کرنے والی تنظیموں میں کونسل آف یورپ، یورپی کمیشن، یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کونسل شامل ہیں۔ دستاویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ روس اپنے زیرِ تسلط زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ یوکرین کو واپس کرے، یوکرین میں خوراک کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے، تمام بندر گاہیں واپس کرے، تمام جنگی قیدی رہا کرے ار یوکرین سے نکالے جانے والے تمام بچوں کی واپسی ممکن بنائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30392402</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Jun 2024 16:49:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/17150516485cf50.webp?r=150616" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/17150516485cf50.webp?r=150616"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
