<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Food</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 06:33:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 06:33:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزانہ لی جانے والی کیفین کی کتنی مقدار نقصان دہ نہیں ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30392885/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھرمیں لوگوں کی بڑی تعداد چائے، کافی اور کیفین سے بھرپور مشروبات کا استعمال کرتی ہیں، تاکہ دماغ کو جگانے یا دوپہر کے وقت توانائی کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ افراد اپنی مارننگ کافی کے بغیر دن بھر کوئی کام سر انجام نہیں دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیفین ان کی توانائی کو تقویت پہنچاتی ہے، جوکہ انہیں پورا دن فعال رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہر حال ، یہ جاننا اہم ہے کہ آپ دن بھر میں کیفین کی کتنی مقدار لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کافی سے لے کر کولڈ ڈرنک تک اور انرجی ڈرنک تک کیفین بہت کم چیزوں میں پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین غذا کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد دن بھر میں 400 ملی گرام تک کیفین استعمال کر سکتا ہے۔ یہ تقریباً چار کپ کافی کے برابر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ٹین ایجرز اور چھوٹے بچوں کو  کیفین نہیں لینی چاہیے، اور اگر وہ لیتے بھی ہیں تواس بات کویقینی بنائیں کہ یہ ضرورت سے زیادہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30392014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاملہ خواتین کو اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لینا چاہیے اور روزانہ 200 گرام کے اندر رہتے ہوئے کیفین کی مقدار لینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی صحت مند بالغوں کو،دن میں،400 ملی گرام کیفین لینے کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھرمیں لوگوں کی بڑی تعداد چائے، کافی اور کیفین سے بھرپور مشروبات کا استعمال کرتی ہیں، تاکہ دماغ کو جگانے یا دوپہر کے وقت توانائی کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکے۔</p>
<p>کچھ افراد اپنی مارننگ کافی کے بغیر دن بھر کوئی کام سر انجام نہیں دے سکتے ہیں۔</p>
<p>کیفین ان کی توانائی کو تقویت پہنچاتی ہے، جوکہ انہیں پورا دن فعال رکھتی ہے۔</p>
<p>بہر حال ، یہ جاننا اہم ہے کہ آپ دن بھر میں کیفین کی کتنی مقدار لیتے ہیں۔</p>
<p>کافی سے لے کر کولڈ ڈرنک تک اور انرجی ڈرنک تک کیفین بہت کم چیزوں میں پائی جاتی ہے۔</p>
<p>ماہرین غذا کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد دن بھر میں 400 ملی گرام تک کیفین استعمال کر سکتا ہے۔ یہ تقریباً چار کپ کافی کے برابر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ٹین ایجرز اور چھوٹے بچوں کو  کیفین نہیں لینی چاہیے، اور اگر وہ لیتے بھی ہیں تواس بات کویقینی بنائیں کہ یہ ضرورت سے زیادہ نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30392014"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حاملہ خواتین کو اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لینا چاہیے اور روزانہ 200 گرام کے اندر رہتے ہوئے کیفین کی مقدار لینی چاہیے۔</p>
<p>کئی صحت مند بالغوں کو،دن میں،400 ملی گرام کیفین لینے کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30392885</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Jun 2024 14:15:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/20141413e2d6805.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/20141413e2d6805.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
