<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 04 May 2026 03:50:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 04 May 2026 03:50:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین پاکستان تعلقات پر برطانوی جریدے کا پروپیگنڈا، سکیورٹی ماہر نے حقیقیت بیان کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30392986/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک چین تعلقات پر برطانوی جریدے ”ڈپلومیٹ“ کی متنازع رپورٹ کو ایک طرف پاکستان کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے تو دوسری جانب سکیورٹی ایکسپرٹ بھی اسے ایک پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thediplomat.com/2024/06/is-china-souring-on-pakistan/"&gt;ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ&lt;/a&gt; میں پاک چین تعلقات میں سرد مہری کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ڈاؤن گریڈ کردیا ہے اور اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو ”اعلیٰ ترین ترجیح“ سے ”ترجیح“ میں دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ چین پاکستان میں سکیورٹی اور سیاسی عدم استحکام پر پریشان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Diplomat_APAC/status/1802036349270118781"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے سکیورٹی ایکسپرٹ محمد علی کا کہنا ہے کہ اس بیان کے خلاف سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر چین کو پاکستان کے حوالے سے کچھ خدشات ہوتے یا ہماری قابلیت اور صلاحیت پر اعتماد نہ ہوتا تو وہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہی نہ کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آج نیوز کے پروگرام ”دس“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد اور ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان اور چین کا معاشی، سماجی، صنعتی اور ٹیکنالوجیکل تعاون بڑھے، اسی لئے یقیناً بین الاقوامی میڈیا میں اس طرح کے بیانیے کا مقصد پاکستان اور چین کی دوستی اور اعتماد کو دھچکا پہچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی ایکسپرٹ نے کہا کہ چین اور پاکستان اب نالج کوریڈور، ریلوے، اسپیس کو آپریشن، انڈسٹریل زونز کو ڈیویلپ کرنے جا رہے ہیں جو کہ اس کا ثبوت ہے کہ چین پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور خودمختاری کا ناصرف اعتراف کرتا ہے بلکہ اس میں پرعزم بھی ہے اور اس میں حصہ دار بھی بننا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک چین تعلقات پر برطانوی جریدے ”ڈپلومیٹ“ کی متنازع رپورٹ کو ایک طرف پاکستان کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے تو دوسری جانب سکیورٹی ایکسپرٹ بھی اسے ایک پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thediplomat.com/2024/06/is-china-souring-on-pakistan/">ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ</a> میں پاک چین تعلقات میں سرد مہری کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ڈاؤن گریڈ کردیا ہے اور اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو ”اعلیٰ ترین ترجیح“ سے ”ترجیح“ میں دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>برطانوی جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ چین پاکستان میں سکیورٹی اور سیاسی عدم استحکام پر پریشان ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Diplomat_APAC/status/1802036349270118781"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے سکیورٹی ایکسپرٹ محمد علی کا کہنا ہے کہ اس بیان کے خلاف سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر چین کو پاکستان کے حوالے سے کچھ خدشات ہوتے یا ہماری قابلیت اور صلاحیت پر اعتماد نہ ہوتا تو وہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہی نہ کرتے۔</p>
<p>انہوں نے آج نیوز کے پروگرام ”دس“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد اور ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان اور چین کا معاشی، سماجی، صنعتی اور ٹیکنالوجیکل تعاون بڑھے، اسی لئے یقیناً بین الاقوامی میڈیا میں اس طرح کے بیانیے کا مقصد پاکستان اور چین کی دوستی اور اعتماد کو دھچکا پہچانا ہے۔</p>
<p>سکیورٹی ایکسپرٹ نے کہا کہ چین اور پاکستان اب نالج کوریڈور، ریلوے، اسپیس کو آپریشن، انڈسٹریل زونز کو ڈیویلپ کرنے جا رہے ہیں جو کہ اس کا ثبوت ہے کہ چین پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور خودمختاری کا ناصرف اعتراف کرتا ہے بلکہ اس میں پرعزم بھی ہے اور اس میں حصہ دار بھی بننا چاہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30392986</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Jun 2024 23:11:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/202311310d8527b.webp?r=231151" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/202311310d8527b.webp?r=231151"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
