<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:45:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:45:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہری بازیابی کیس: آئی ایس آئی اور ایم آئی سیکٹر کمانڈرز کو دستخط شدہ رپورٹ جمع کرانے کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30393039/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزاد کشمیر کے شہری کی بازیابی سے متعلق کیس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی سیکٹر کمانڈرز کو دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہورہا ہے، دونوں افسران کے دستخط کے ساتھ رپورٹ اس لیے لے رہے کہ اسکے نتائج ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آزاد کشمیر کے شہری خواجہ خورشید کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ خورشید کے خلاف پولیس کے پاس کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محسن کیانی نے استفسار کیا کہ پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹ آ گئی، وزارت دفاع کی رپورٹ کدھر ہے، جس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ ہمیں کل نوٹس موصول ہوا ہے، تھوڑا وقت دے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے حکم دیا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز سے کہیں اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرائیں، دونوں افسران کے دستخط کے ساتھ پیر کو رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30391803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ 18، 19 دن ہو گئے ہیں کہ ایک شخص لاپتہ ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، سب پریشان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ آجائے تو پھر دیکھ لیتے ہیں، سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محسن کیانی نے نمائندہ وزارتِ دفاع سے مکالمہ کیا کہ دستخط کے ساتھ رپورٹ اس لیے لے رہے ہیں کہ اس کے نتائج ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت سے استدعا کی کہ پیر تک کا وقت دے دیا جائے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پیر کو خالد خورشید کو 21 دن ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیے کہ کسی دہشت گردی یا ریاست مخالف سرگرمی میں شامل ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں، اگر اس کا کوئی مجرمانہ فعل ہے تو کارروائی کریں کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز کو اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے وادی نیلم کے رہائشی خواجہ خورشید 7 جون کو لاپتہ ہوگئے تھے، درخواست گزار کے مطابق خورشید راولپنڈی سے اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 گئے تھے لیکن واپس گھر نہیں پہنچے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزاد کشمیر کے شہری کی بازیابی سے متعلق کیس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی سیکٹر کمانڈرز کو دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہورہا ہے، دونوں افسران کے دستخط کے ساتھ رپورٹ اس لیے لے رہے کہ اسکے نتائج ہوں گے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آزاد کشمیر کے شہری خواجہ خورشید کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔</p>
<p>دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ خورشید کے خلاف پولیس کے پاس کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔</p>
<p>جسٹس محسن کیانی نے استفسار کیا کہ پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹ آ گئی، وزارت دفاع کی رپورٹ کدھر ہے، جس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ ہمیں کل نوٹس موصول ہوا ہے، تھوڑا وقت دے دیں۔</p>
<p>عدالت نے حکم دیا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز سے کہیں اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرائیں، دونوں افسران کے دستخط کے ساتھ پیر کو رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30391803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ 18، 19 دن ہو گئے ہیں کہ ایک شخص لاپتہ ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، سب پریشان ہیں۔</p>
<p>جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ آجائے تو پھر دیکھ لیتے ہیں، سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے۔</p>
<p>جسٹس محسن کیانی نے نمائندہ وزارتِ دفاع سے مکالمہ کیا کہ دستخط کے ساتھ رپورٹ اس لیے لے رہے ہیں کہ اس کے نتائج ہوں گے۔</p>
<p>نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت سے استدعا کی کہ پیر تک کا وقت دے دیا جائے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پیر کو خالد خورشید کو 21 دن ہو جائیں گے۔</p>
<p>جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیے کہ کسی دہشت گردی یا ریاست مخالف سرگرمی میں شامل ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں، اگر اس کا کوئی مجرمانہ فعل ہے تو کارروائی کریں کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔</p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز کو اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی۔</p>
<p>واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے وادی نیلم کے رہائشی خواجہ خورشید 7 جون کو لاپتہ ہوگئے تھے، درخواست گزار کے مطابق خورشید راولپنڈی سے اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 گئے تھے لیکن واپس گھر نہیں پہنچے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30393039</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Jun 2024 11:34:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/21103517ffd5bd9.jpg?r=103534" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/21103517ffd5bd9.jpg?r=103534"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
