<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 09:34:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 09:34:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرایے پر اہلیہ ملنے کی روایت، بھارت کی اور خبیث رسم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30393316/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں ایسی کئی رسموں اور روایتوں پر آج بھی عمل درآمد کیا جا رہا ہے جسے سن کر اور دیکھ کر سب حیران ہوجاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسی ہی رسم نے سوشل میڈیا صارفین کو بھی حیران کر دیا ہے، جس میں اہلیہ کو اب کرایے پر حاصل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آج کے جدید دور میں قدیمی رسومات اور صنفی امتیاز کے خلاف کئی ممالک میں آگاہی پھیل چکی ہے، تاہم بھارت کے کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں اب بھی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے، جہاں خواتین کو پیسوں کے عوض دلہن بنایا جاتا ہے۔ ریاست کے شیوپوری گاؤں میں ایک رسم ’ڈھادیچا پرتھا‘ ہے، اس کے ذریعے مقامی شہری کرایے پر دلہن لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30390886/"&gt;پسند کی شادی کا کیس: ’اپنی مرضی سے نکاح کیا‘ لڑکی کا بیان سنتے ہی والد کی حالت غی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30384927"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رسم کے تحت خاندان اپنے گھر کی خواتین، یا خاتون رشتہ دار کو امیر افراد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، مقامی میڈیا کے مطابق امیر افراد اگر دلہن نہ ڈھونڈ پائیں تو ان کے لیے اس روایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں ہر سال ایک مارکیٹ نما تقریب ہوتی ہے، جس میں گھر کے مرد حضرات اپنے ہی گھر کی خواتین کو لاتے ہیں، حیرت انگیز طور پر اس تقریب پر مقامی انتظامیہ بھی روک نہیں لگا پاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30384636/"&gt;برطانیہ میں ہونے والی مہنگی ترین دیسی شادی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس رسم کے مطابق خاتون کے گھر والے کرایے کے ساتھ ایک کانٹریکٹ پر بھی دستخط کراتے ہیں، جبکہ اس کے لیے 10، 50 یا 100 بھارتی روپے کے اسٹیمپ پیپر کا استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کانٹریکٹ کی مدت 1 ماہ سے 1 سال تک ہو سکتی ہے، جبکہ کانٹریکٹ ختم ہونے پر اسے دوبارہ رینیو بھی کرایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی ساتھ خاتون اس کانٹریکٹ سے پیچھے کسی بھی وقت ہٹ سکتی ہے، تاہم اس پر اسے اور اس کے گھر والوں کو سیکیورٹی ڈپوزٹ جمع کرانا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30384481/"&gt;ایک بہن دلہن بنی دوسری اس کی ساس بن گئی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کے جدید دور میں بھی خواتین کے کرایے کے طور پر 15000 بھارتی روپے 2 لاکھ بھارتی روپے ادا کیے جاتے ہیں، جبکہ رقم لڑکی کی خوبصورتی پر منحصر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے بھارتی ریاست گجرات، جھاڑکھنڈ اور مغربی بنگال میں بھی اس قسم کی روایت مقبول ہیں۔ جن پر کئی سماجی حقوق کی تنظیمیں شدید تنقید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں ایسی کئی رسموں اور روایتوں پر آج بھی عمل درآمد کیا جا رہا ہے جسے سن کر اور دیکھ کر سب حیران ہوجاتے ہیں۔</strong></p>
<p>ایک ایسی ہی رسم نے سوشل میڈیا صارفین کو بھی حیران کر دیا ہے، جس میں اہلیہ کو اب کرایے پر حاصل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ آج کے جدید دور میں قدیمی رسومات اور صنفی امتیاز کے خلاف کئی ممالک میں آگاہی پھیل چکی ہے، تاہم بھارت کے کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں اب بھی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے، جہاں خواتین کو پیسوں کے عوض دلہن بنایا جاتا ہے۔ ریاست کے شیوپوری گاؤں میں ایک رسم ’ڈھادیچا پرتھا‘ ہے، اس کے ذریعے مقامی شہری کرایے پر دلہن لے سکتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30390886/">پسند کی شادی کا کیس: ’اپنی مرضی سے نکاح کیا‘ لڑکی کا بیان سنتے ہی والد کی حالت غی</a></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30384927"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس رسم کے تحت خاندان اپنے گھر کی خواتین، یا خاتون رشتہ دار کو امیر افراد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، مقامی میڈیا کے مطابق امیر افراد اگر دلہن نہ ڈھونڈ پائیں تو ان کے لیے اس روایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
<p>جہاں ہر سال ایک مارکیٹ نما تقریب ہوتی ہے، جس میں گھر کے مرد حضرات اپنے ہی گھر کی خواتین کو لاتے ہیں، حیرت انگیز طور پر اس تقریب پر مقامی انتظامیہ بھی روک نہیں لگا پاتی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30384636/">برطانیہ میں ہونے والی مہنگی ترین دیسی شادی</a></p>
<p>دوسری جانب اس رسم کے مطابق خاتون کے گھر والے کرایے کے ساتھ ایک کانٹریکٹ پر بھی دستخط کراتے ہیں، جبکہ اس کے لیے 10، 50 یا 100 بھارتی روپے کے اسٹیمپ پیپر کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کانٹریکٹ کی مدت 1 ماہ سے 1 سال تک ہو سکتی ہے، جبکہ کانٹریکٹ ختم ہونے پر اسے دوبارہ رینیو بھی کرایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ساتھ ہی ساتھ خاتون اس کانٹریکٹ سے پیچھے کسی بھی وقت ہٹ سکتی ہے، تاہم اس پر اسے اور اس کے گھر والوں کو سیکیورٹی ڈپوزٹ جمع کرانا ہوتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30384481/">ایک بہن دلہن بنی دوسری اس کی ساس بن گئی</a></p>
<p>آج کے جدید دور میں بھی خواتین کے کرایے کے طور پر 15000 بھارتی روپے 2 لاکھ بھارتی روپے ادا کیے جاتے ہیں، جبکہ رقم لڑکی کی خوبصورتی پر منحصر کرتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے بھارتی ریاست گجرات، جھاڑکھنڈ اور مغربی بنگال میں بھی اس قسم کی روایت مقبول ہیں۔ جن پر کئی سماجی حقوق کی تنظیمیں شدید تنقید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30393316</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Jun 2024 15:56:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/22153620ae495e8.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/22153620ae495e8.png"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: انٹرنیٹ/ بھارتی میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
