<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Entertainment</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 07:22:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 07:22:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عربوں کو دہشت گرد دکھانے پر’ بائیکاٹ نیٹ فلیکس’ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30394268/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیٹ فلیکس کی جانب سے ریلیز کی گئی ایکشن فلم ’ٹرگر وارننگ‘ میں  عربوں کو دہشت گرد دکھانے اور قتل و گارت کو   معمول کے کام سمھجنے پر سوشل میڈیا  سارفین پھٹ پڑے ۔ صارفین نے برہمی  کا اظہار  کرتے ہوئے نیٹ فلیکس اور جیسیکا ایلبا کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ بھی چلادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشریاتی ادارے مڈل ایسٹ آئی کے مطابق جیسیکا البا کی فلم ’ٹرگر وارننگ‘  میں   عربوں کو فلسطینی رومال ’کوفیہ‘ کے ساتھ دہشت گرد کرداروں میں  دیکھایا گیا ہے ۔ جس میں  ’کوفیہ‘ پہنے ہوئے عرب دہشت گرد ایک امریکی فلاحی تنظیم کے ٹرک پر حملہ کرتے ہیں لیکن بعد ازاں امریکی فورسز دہشت گردوں پر حملہ کرکے انہیں مار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شائقین کے مطابق فلم میں عرب کرداروں کو   دہشت گرد کے طور پر دکھانا   یہ تاثر  دیتا  ہے  کہ مسلمان اور خصوصی طور پر عرب دہشت گرد ہوتے ہیں اور ان کا قتل عام بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/27002308eaa2fae.jpg?r=002426'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین نے مذکورہ مناظر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ دہشت گرد کردار امریکی  بھی تو  دکھائے جا سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/270022575dcbca4.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین نے دعویٰ کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے ، فلموں میں عربوں کو دہشت گرد دکھانے اور ان کے قتل کو معمولی بات قرار دیے جانے کی کوشش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/270023041701887.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فلم کو نیٹ فلیکس پر 21 جون کو ریلیز کیا گیا تھا اور اسی فلم کے ذریعے جیسیکا ایلبا پانچ سال بعد بڑی اسکرین پر واپس ہوئی ہیں اور ان کی فلم میں عربوں کو دہشت گرد دکھانے پر نہ صرف عرب سوشل میڈیا صارفین بلکہ امریکی، برطانوی اور یورپی صارفین نے بھی اظہار برہمی کیا ہے ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیٹ فلیکس کی جانب سے ریلیز کی گئی ایکشن فلم ’ٹرگر وارننگ‘ میں  عربوں کو دہشت گرد دکھانے اور قتل و گارت کو   معمول کے کام سمھجنے پر سوشل میڈیا  سارفین پھٹ پڑے ۔ صارفین نے برہمی  کا اظہار  کرتے ہوئے نیٹ فلیکس اور جیسیکا ایلبا کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ بھی چلادیا۔</p>
<p>نشریاتی ادارے مڈل ایسٹ آئی کے مطابق جیسیکا البا کی فلم ’ٹرگر وارننگ‘  میں   عربوں کو فلسطینی رومال ’کوفیہ‘ کے ساتھ دہشت گرد کرداروں میں  دیکھایا گیا ہے ۔ جس میں  ’کوفیہ‘ پہنے ہوئے عرب دہشت گرد ایک امریکی فلاحی تنظیم کے ٹرک پر حملہ کرتے ہیں لیکن بعد ازاں امریکی فورسز دہشت گردوں پر حملہ کرکے انہیں مار دیتی ہے۔</p>
<p>شائقین کے مطابق فلم میں عرب کرداروں کو   دہشت گرد کے طور پر دکھانا   یہ تاثر  دیتا  ہے  کہ مسلمان اور خصوصی طور پر عرب دہشت گرد ہوتے ہیں اور ان کا قتل عام بات ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/27002308eaa2fae.jpg?r=002426'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>صارفین نے مذکورہ مناظر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ دہشت گرد کردار امریکی  بھی تو  دکھائے جا سکتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/270022575dcbca4.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>صارفین نے دعویٰ کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے ، فلموں میں عربوں کو دہشت گرد دکھانے اور ان کے قتل کو معمولی بات قرار دیے جانے کی کوشش کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/270023041701887.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ فلم کو نیٹ فلیکس پر 21 جون کو ریلیز کیا گیا تھا اور اسی فلم کے ذریعے جیسیکا ایلبا پانچ سال بعد بڑی اسکرین پر واپس ہوئی ہیں اور ان کی فلم میں عربوں کو دہشت گرد دکھانے پر نہ صرف عرب سوشل میڈیا صارفین بلکہ امریکی، برطانوی اور یورپی صارفین نے بھی اظہار برہمی کیا ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30394268</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Jun 2024 08:54:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/27002153840097f.jpg?r=002225" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/27002153840097f.jpg?r=002225"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
