<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 22 May 2026 01:56:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 22 May 2026 01:56:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>”توہین آمیز مواد سے متعلق ہماری پالیسی سخت ہے“, ٹک ٹاک کا چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو خط</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30395289/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توہین آمیز مواد ہٹانےاور  ٹک ٹاک بندش کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست  پر ٹک ٹاک کے پاکستان میں نمائندے نے    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں توہین آمیز مواد سے متعلق ٹک ٹاک کی پالیسی سخت ہے اور  ٹک ٹاک نے پی ٹی اے کو ایسے مواد ہٹانے کے لئے خصوصی پورٹل دیا ہے جس  سے توہین آمیز مواد کو بلاک  بھی کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں لکھا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر مبینہ طور پر توہین آمیز مواد اپلوڈ ہونے کی خبریں ہم تک پہنچی ہیں ،  پاکستان میں توہین آمیز مواد سے متعلق ٹک ٹاک کی پالیسی سخت ہے اور  ٹک ٹاک نے پی ٹی اے کو ایسے مواد ہٹانے کے لئے خصوصی پورٹل دیا ہےجس  سے توہین آمیز مواد کو بلاک  بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں بتایا گیا ہے کہ ٹاک ٹاک پاکستان میں توہین آمیز مواد سے متعلق سنجیدہ ہے، پی ٹی اے نے حال ہی میں کوئی توہین آمیز مواد نہیں رپورٹ کیا، خبروں کے بعد ٹک ٹاک نے خود پی ٹی اے کو توہین آمیز مواد رپورٹ کرنے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹک کے پاکستان میں  موجود نمائندے نے بتایا کہ ٹک ٹک توہین آمیز مواد سے متعلق مقامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے لیکن ہم نے  عدالتی کارروائی میں حصہ لینے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>توہین آمیز مواد ہٹانےاور  ٹک ٹاک بندش کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست  پر ٹک ٹاک کے پاکستان میں نمائندے نے    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں توہین آمیز مواد سے متعلق ٹک ٹاک کی پالیسی سخت ہے اور  ٹک ٹاک نے پی ٹی اے کو ایسے مواد ہٹانے کے لئے خصوصی پورٹل دیا ہے جس  سے توہین آمیز مواد کو بلاک  بھی کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>خط میں لکھا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر مبینہ طور پر توہین آمیز مواد اپلوڈ ہونے کی خبریں ہم تک پہنچی ہیں ،  پاکستان میں توہین آمیز مواد سے متعلق ٹک ٹاک کی پالیسی سخت ہے اور  ٹک ٹاک نے پی ٹی اے کو ایسے مواد ہٹانے کے لئے خصوصی پورٹل دیا ہےجس  سے توہین آمیز مواد کو بلاک  بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خط میں بتایا گیا ہے کہ ٹاک ٹاک پاکستان میں توہین آمیز مواد سے متعلق سنجیدہ ہے، پی ٹی اے نے حال ہی میں کوئی توہین آمیز مواد نہیں رپورٹ کیا، خبروں کے بعد ٹک ٹاک نے خود پی ٹی اے کو توہین آمیز مواد رپورٹ کرنے کی درخواست کی۔</p>
<p>ٹک ٹک کے پاکستان میں  موجود نمائندے نے بتایا کہ ٹک ٹک توہین آمیز مواد سے متعلق مقامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے لیکن ہم نے  عدالتی کارروائی میں حصہ لینے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30395289</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jul 2024 22:45:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/01220207c2349e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/01220207c2349e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
