<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 23:30:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 23:30:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جج کی بیٹی کیخلاف ہٹ اینڈ رن کیس: حادثے میں ہلاک شکیل تنولی کے والد احتجاج پر گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30395894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں دو سال قبل مبینہ طور پر جج کی بیٹی کی کار کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے وفاقی دارالحکومت میں &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30395874/"&gt;نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر احتجاج کیا&lt;/a&gt; تو پولیس نے حادثے میں مرنے والے نوجوان کے والد رفاقت تنولی سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفاقت تنولی نے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30395874/"&gt;آج نیوز سے گفتگو میں اعلان کیا تھا&lt;/a&gt; کہ مطالبات نہ مانے گئے تو ڈی چوک کا رخ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد پولیس کی جانب سے نیشنل پریس کلب پر موجود مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی، جس سے علاقہ مکین پریشان ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30393111/"&gt;جج کی بیٹی کیخلاف ہٹ اینڈ رن کیس: ’جوڈیشل مجسٹریٹ‘ کے ہاتھوں اسلام آباد پولیس رل گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین کی جانب سے دو سال قبل کار حادثے میں شکیل تنولی کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395874"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  80 سے 90 مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر جمع تھے اور  ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق پولیس نے مذاکرات کئے مگر مظاہرین ریڈزون جانے کے لئے بضد تھے، مظاہرین نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے ڈی چوک کی طرف مارچ کرنا شروع کردیا، پولیس کے روکنے پر مظاہرین نے دھکم پیل شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو ریڈ زون جانے سے روک لیا ہے اور چھ مشتعل افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں ہر قسم کے احتجاج اور مظاہرے پر پابندی ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگریزی اخبار ڈان کے مطابق 2022 میں مبینہ طور پر لاہور ہائیکورٹ کے جج کی بیٹی کی اسپورٹس گاڑی کی ٹکر سے ایکسپریس وے پر سوہان پل کے قریب شکیل تنولی اور اس کا دوست علی حسنین جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعہ آدھی رات کو تیزی رفتاری کے باعث پیش آیا جس کے بعد سے کیس کی تفتیش تعطل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں دو سال قبل مبینہ طور پر جج کی بیٹی کی کار کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے وفاقی دارالحکومت میں <a href="https://www.aaj.tv/news/30395874/">نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر احتجاج کیا</a> تو پولیس نے حادثے میں مرنے والے نوجوان کے والد رفاقت تنولی سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔</strong></p>
<p>رفاقت تنولی نے <a href="https://www.aaj.tv/news/30395874/">آج نیوز سے گفتگو میں اعلان کیا تھا</a> کہ مطالبات نہ مانے گئے تو ڈی چوک کا رخ کیا جائے گا۔</p>
<p>اسلام آباد پولیس کی جانب سے نیشنل پریس کلب پر موجود مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی، جس سے علاقہ مکین پریشان ہوگئے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30393111/">جج کی بیٹی کیخلاف ہٹ اینڈ رن کیس: ’جوڈیشل مجسٹریٹ‘ کے ہاتھوں اسلام آباد پولیس رل گئی</a></strong></p>
<p>مظاہرین کی جانب سے دو سال قبل کار حادثے میں شکیل تنولی کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395874"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس حکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  80 سے 90 مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر جمع تھے اور  ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی تھی۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق پولیس نے مذاکرات کئے مگر مظاہرین ریڈزون جانے کے لئے بضد تھے، مظاہرین نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے ڈی چوک کی طرف مارچ کرنا شروع کردیا، پولیس کے روکنے پر مظاہرین نے دھکم پیل شروع کردی۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو ریڈ زون جانے سے روک لیا ہے اور چھ مشتعل افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں ہر قسم کے احتجاج اور مظاہرے پر پابندی ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p>انگریزی اخبار ڈان کے مطابق 2022 میں مبینہ طور پر لاہور ہائیکورٹ کے جج کی بیٹی کی اسپورٹس گاڑی کی ٹکر سے ایکسپریس وے پر سوہان پل کے قریب شکیل تنولی اور اس کا دوست علی حسنین جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعہ آدھی رات کو تیزی رفتاری کے باعث پیش آیا جس کے بعد سے کیس کی تفتیش تعطل کا شکار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30395894</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jul 2024 23:45:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/042216484ff04e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/042216484ff04e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
