<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 19:34:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 19:34:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کفایت شعاری مہم‘ ہوا کی نذر، سپلیمنٹری گرانٹس میں ریکارڈ اضافہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30396477/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: پارلیمنٹ نے 28 جون کو وفاقی حکومت کو رواں مالی سال کے لیے170 ارب روپے سے زائد کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیا تھا۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ اخراجات کے لیے 940  ارب روپے کی ریکارڈ منظوری دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی ڈی ایم، نگراں حکومت اور حکمراں اتحادی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اور سخت مالیاتی کنٹرول کے دعوؤں کے باوجود یہ بڑے پیمانے پر اخراجات سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ تازہ بجٹ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 93 کھرب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس کے لیے پارلیمانی منظوری حاصل کی جو کہ ایک سال قبل منظور کیے گئے 19 کھرب 15 ارب روپے سے 389 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متضاد طور پر 23-2022 کے مالی سال کے آخری 45 دنوں یعنی 16 مئی سے 30 جون 2023 کے درمیان تقریباً 86 فیصد (80 کھرب روپے سے زیادہ) اخراجات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30313392"&gt;وزیراعظم نے 15رکنی قومی کفایت شعاری کمیٹی تشکیل دیدی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر 23-2022 کے مالی سال کے آخری 45 دن (یعنی 16 مئی سے 30 جون 2023) کے درمیان تقریباً 86 فیصد (80 کھرب روپے سے زیادہ) زائد اخراجات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کا امکان بڑھ گیا کہ حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال میں ضرورت سے زیادہ اخراجات اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں، جس کے لیے حکومت نے 17 مئی تک صرف 13 کھرب روپے یا 14 فیصد سپلیمنٹری گرانٹس کو رپورٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زائد اخراجات میں اضافے میں تقریباً 70 فیصد کا ایک بڑا حصہ حکومت کی جانب سے موجودہ قرضوں کی ادائیگی یا خدمت کے لیے بڑے پیمانے پر قرضے لینے کی وجہ سے ہوا، جب کہ کچھ بڑا حصہ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے اور کے -الیکٹرک کو ادائیگیوں کی وجہ سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30373138"&gt;کفایت شعاری اقدامات کے تحت بڑے اقدامات کا اعلان، نئی بھرتیوں پر بھی پابندی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا کہ کچھ قبل توجہ اخراجات اسراف کے زمرے میں بھی آتے ہیں جو کفایت شعاری کی پالیسی کے تناظر میں ٹھیک نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم آفس کو کفایت شعاری کا مثال قائم کرنی چاہیے تھی، نے اپنے افسران کو ”اعزازی“ کے لیے 39 ملین روپے اور 42 ملین روپے کی دو الگ الگ ضمنی گرانٹس حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’وزارت خزانہ نے سپلیمنٹری گرانٹس کے لیے اصل ہیڈز کو ریکارڈ پر لانے کی زحمت تک نہیں اور صرف ون لائنر دیتے ہوئے ’بجٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30318050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: پارلیمنٹ نے 28 جون کو وفاقی حکومت کو رواں مالی سال کے لیے170 ارب روپے سے زائد کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیا تھا۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ اخراجات کے لیے 940  ارب روپے کی ریکارڈ منظوری دی ہے۔</strong></p>
<p>واضح رہے کہ پی ڈی ایم، نگراں حکومت اور حکمراں اتحادی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اور سخت مالیاتی کنٹرول کے دعوؤں کے باوجود یہ بڑے پیمانے پر اخراجات سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ تازہ بجٹ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 93 کھرب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس کے لیے پارلیمانی منظوری حاصل کی جو کہ ایک سال قبل منظور کیے گئے 19 کھرب 15 ارب روپے سے 389 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>متضاد طور پر 23-2022 کے مالی سال کے آخری 45 دنوں یعنی 16 مئی سے 30 جون 2023 کے درمیان تقریباً 86 فیصد (80 کھرب روپے سے زیادہ) اخراجات کیے گئے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30313392">وزیراعظم نے 15رکنی قومی کفایت شعاری کمیٹی تشکیل دیدی</a></p>
<p>حیرت انگیز طور پر 23-2022 کے مالی سال کے آخری 45 دن (یعنی 16 مئی سے 30 جون 2023) کے درمیان تقریباً 86 فیصد (80 کھرب روپے سے زیادہ) زائد اخراجات کیے گئے۔</p>
<p>اس بات کا امکان بڑھ گیا کہ حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال میں ضرورت سے زیادہ اخراجات اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں، جس کے لیے حکومت نے 17 مئی تک صرف 13 کھرب روپے یا 14 فیصد سپلیمنٹری گرانٹس کو رپورٹ کیا ہے۔</p>
<p>زائد اخراجات میں اضافے میں تقریباً 70 فیصد کا ایک بڑا حصہ حکومت کی جانب سے موجودہ قرضوں کی ادائیگی یا خدمت کے لیے بڑے پیمانے پر قرضے لینے کی وجہ سے ہوا، جب کہ کچھ بڑا حصہ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے اور کے -الیکٹرک کو ادائیگیوں کی وجہ سے ہوا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30373138">کفایت شعاری اقدامات کے تحت بڑے اقدامات کا اعلان، نئی بھرتیوں پر بھی پابندی</a></p>
<p>ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا کہ کچھ قبل توجہ اخراجات اسراف کے زمرے میں بھی آتے ہیں جو کفایت شعاری کی پالیسی کے تناظر میں ٹھیک نہیں تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم آفس کو کفایت شعاری کا مثال قائم کرنی چاہیے تھی، نے اپنے افسران کو ”اعزازی“ کے لیے 39 ملین روپے اور 42 ملین روپے کی دو الگ الگ ضمنی گرانٹس حاصل کیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’وزارت خزانہ نے سپلیمنٹری گرانٹس کے لیے اصل ہیڈز کو ریکارڈ پر لانے کی زحمت تک نہیں اور صرف ون لائنر دیتے ہوئے ’بجٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے‘ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30318050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30396477</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Jul 2024 09:32:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/08093209128ce00.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/08093209128ce00.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
