<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 15:04:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 15:04:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تم نے ابھی اللہ پاک کی مخلوق دیکھی کہاں ہے‘ تیزی سے وائرل ویڈیو کی حقیقت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30397013/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حال ہی میں ایک ویڈیو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/Masoom__kuri/status/1810555095282786353"&gt;یہاں&lt;/a&gt; اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=hs3CeihrWJk"&gt;یہاں&lt;/a&gt; تیزی سے وائرل ہوئی ہے جس میں ڈولفن کے جسم اور گائے کے سر کے ساتھ ایک نئی مخلوق نظر آرہی ہے۔ سمندری اور خشکی کے جانوروں کے آمیزے کی طرح نظر آنے والی اس عجیب و غریب مخلوق کی بہت سی ایسی ہی ویڈیوز (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=s7XZ2kxfHh0"&gt;یہاں&lt;/a&gt;، &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=YzFdJZIpgVA"&gt;یہاں&lt;/a&gt; اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=liAe9CjhBU8"&gt;یہاں&lt;/a&gt;) سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے کہا کہ ’سمندر میں گائے کی شکل میں مچھلی۔۔۔ اے آدم کی اولاد تم نے ابھی اللہ پاک کی مخلوق دیکھی کہاں ہے‘۔ ویڈیو کو ایک لاکھ 73 ہزار مرتبہ دکھا گیا جبکہ 740 مرتبہ شیئر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Masoom__kuri/status/1810555095282786353"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے فیکٹ چیک کیا گیا۔ سب سے پہلے آن لائن چیک کیا کہ آیا ایسی عجیب و غریب مخلوق کو دیکھنے کے بارے میں کوئی معتبر معلومات موجود ہیں۔ اس تلاش سے کوئی معتبر رپورٹ نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اگر اس جیسی مخلوق کو لوگوں نے دریافت کیا ہوتا اور اسے فلمایا ہوتا اور متعدد اخبارات نے اس کو اہمیت دی ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ پر سرچ کے دوران ایک زویے کے علاوہ کسی اور زوایے سے مخلوق کی کوئی اور ویڈیو نہیں ملی۔ ویڈیو میں ہم مخلوق کے پس منظر میں بہت سے لوگوں کو جمع ہوتے دیکھ سکتے ہیں، اور یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے زاویوں سے اسے ریکارڈ کرکے ویب پر پوسٹ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شک کے ساتھ کہ وائرل ویڈیو VFX یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تھی۔ فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا جس میں کچھ بے ضابطگیاں ملی ہیں۔ اس مخلوق کے عقب میں موجود ایک شخص کی تیسری ٹانگ نمودار ہوگئی۔  خیال رہے کہ اس طرح کے مواد کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کرنے میں کئی طرح کی خامیاں نمایاں ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/101631069d90bec.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ہم نے وائرل ویڈیو کے چند اسکرین شاٹس ’Hugging Face‘s’ Maybe AI-content detector کے ذریعے چلائے اور معلوم ہوا کہ یہ 98 فیصد مصنوعی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/1016300436ec3c2.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں ’ڈیجیٹل تخلیق کاروں‘ کے چند فیس بک پروفائلز بھی ملے جنہوں نے تبدیل شدہ جانوروں کی ایسی بہت سی ویڈیوز پوسٹ کیں، جنہیں آپ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/profile.php?id=61561001975845&amp;amp;sk=reels_tab"&gt;یہاں&lt;/a&gt; اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/reel/3639088723069534"&gt;یہاں&lt;/a&gt; دیکھ سکتے ہیں۔ ان تمام شواہد کے ساتھ، ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ٹیکسٹ ٹو ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کردہ ویڈیوز کو عجیب و غریب جانوروں کی حقیقی ویڈیوز کے طور پر غلط طریقے سے شیئر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ اس ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ ویڈیو کو تبدیل شدہ جانوروں کی انواع کے حقیقی منظر کے طور پر شیئر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حال ہی میں ایک ویڈیو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/Masoom__kuri/status/1810555095282786353">یہاں</a> اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=hs3CeihrWJk">یہاں</a> تیزی سے وائرل ہوئی ہے جس میں ڈولفن کے جسم اور گائے کے سر کے ساتھ ایک نئی مخلوق نظر آرہی ہے۔ سمندری اور خشکی کے جانوروں کے آمیزے کی طرح نظر آنے والی اس عجیب و غریب مخلوق کی بہت سی ایسی ہی ویڈیوز (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=s7XZ2kxfHh0">یہاں</a>، <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=YzFdJZIpgVA">یہاں</a> اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=liAe9CjhBU8">یہاں</a>) سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔</strong></p>
<p>سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے کہا کہ ’سمندر میں گائے کی شکل میں مچھلی۔۔۔ اے آدم کی اولاد تم نے ابھی اللہ پاک کی مخلوق دیکھی کہاں ہے‘۔ ویڈیو کو ایک لاکھ 73 ہزار مرتبہ دکھا گیا جبکہ 740 مرتبہ شیئر کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Masoom__kuri/status/1810555095282786353"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے فیکٹ چیک کیا گیا۔ سب سے پہلے آن لائن چیک کیا کہ آیا ایسی عجیب و غریب مخلوق کو دیکھنے کے بارے میں کوئی معتبر معلومات موجود ہیں۔ اس تلاش سے کوئی معتبر رپورٹ نہیں ملی۔</p>
<p>یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اگر اس جیسی مخلوق کو لوگوں نے دریافت کیا ہوتا اور اسے فلمایا ہوتا اور متعدد اخبارات نے اس کو اہمیت دی ہوتی۔</p>
<p>انٹرنیٹ پر سرچ کے دوران ایک زویے کے علاوہ کسی اور زوایے سے مخلوق کی کوئی اور ویڈیو نہیں ملی۔ ویڈیو میں ہم مخلوق کے پس منظر میں بہت سے لوگوں کو جمع ہوتے دیکھ سکتے ہیں، اور یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے زاویوں سے اسے ریکارڈ کرکے ویب پر پوسٹ نہیں کیا۔</p>
<p>اس شک کے ساتھ کہ وائرل ویڈیو VFX یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تھی۔ فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا جس میں کچھ بے ضابطگیاں ملی ہیں۔ اس مخلوق کے عقب میں موجود ایک شخص کی تیسری ٹانگ نمودار ہوگئی۔  خیال رہے کہ اس طرح کے مواد کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کرنے میں کئی طرح کی خامیاں نمایاں ہوجاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/101631069d90bec.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بعد ہم نے وائرل ویڈیو کے چند اسکرین شاٹس ’Hugging Face‘s’ Maybe AI-content detector کے ذریعے چلائے اور معلوم ہوا کہ یہ 98 فیصد مصنوعی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/1016300436ec3c2.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ہمیں ’ڈیجیٹل تخلیق کاروں‘ کے چند فیس بک پروفائلز بھی ملے جنہوں نے تبدیل شدہ جانوروں کی ایسی بہت سی ویڈیوز پوسٹ کیں، جنہیں آپ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/profile.php?id=61561001975845&amp;sk=reels_tab">یہاں</a> اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/reel/3639088723069534">یہاں</a> دیکھ سکتے ہیں۔ ان تمام شواہد کے ساتھ، ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ٹیکسٹ ٹو ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کردہ ویڈیوز کو عجیب و غریب جانوروں کی حقیقی ویڈیوز کے طور پر غلط طریقے سے شیئر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ اس ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ ویڈیو کو تبدیل شدہ جانوروں کی انواع کے حقیقی منظر کے طور پر شیئر کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30397013</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jul 2024 08:27:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/10161038494c801.png?r=164322" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/10161038494c801.png?r=164322"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
