<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 19:59:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 19:59:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دکان داروں سے ماہانہ 100 تا 10 ہزار روپے کا ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30397599/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر حکومت کی آمدنی میں اضافے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پرچون فروشوں سے ماہانہ 100 سے 10 ہزار روپے تک ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فکسڈ ریٹیلرز اسکیم کا دائرہ 42 شہروں تک پھیلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دکانوں کی قیمت اور آمدنی کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 7 ارب ڈالر کے قرضے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے ٹیکس نیٹ میں وسعت لازم ہے۔ اس کے لیے ایف بی آر مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ پرچوں فروشوں کی رجسٹریشن بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30397656/"&gt;آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر قرض کیلئے بھاری ٹیکس وصولیوں کا منصوبہ تیار&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تنخواہ دار طبقے سے لیے جانے جانے والے انکم ٹیکس میں اضافے کے ساتھ ساتھ خوردہ فروشی یا پرچون فروشی کی سطح پر بھی ٹیکس وصول کیے جانے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30378622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے طے کردہ ہدف کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر کو پرچوں فروشوں سے 50 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ چند ماہ قبل پرچون فروشوں کی رجسٹریشن شروع کی گئی جو اعتراضات اور تحفظات کے باعث ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔ کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی آمدنی کی بنیاد پر کی جانی چاہیے نہ کہ طے شدہ معیارات کے تحت۔ چھوٹے تاجروں اور دکان داروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت کو اسمگلنگ روکنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ کاروبار دوست ماحول بھی فراہم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر حکومت کی آمدنی میں اضافے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پرچون فروشوں سے ماہانہ 100 سے 10 ہزار روپے تک ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فکسڈ ریٹیلرز اسکیم کا دائرہ 42 شہروں تک پھیلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دکانوں کی قیمت اور آمدنی کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔</p>
<p>یاد رہے کہ 7 ارب ڈالر کے قرضے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے ٹیکس نیٹ میں وسعت لازم ہے۔ اس کے لیے ایف بی آر مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ پرچوں فروشوں کی رجسٹریشن بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30397656/">آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر قرض کیلئے بھاری ٹیکس وصولیوں کا منصوبہ تیار</a></p>
<p>آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تنخواہ دار طبقے سے لیے جانے جانے والے انکم ٹیکس میں اضافے کے ساتھ ساتھ خوردہ فروشی یا پرچون فروشی کی سطح پر بھی ٹیکس وصول کیے جانے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30378622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی ایم ایف کے طے کردہ ہدف کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر کو پرچوں فروشوں سے 50 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ چند ماہ قبل پرچون فروشوں کی رجسٹریشن شروع کی گئی جو اعتراضات اور تحفظات کے باعث ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔ کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی آمدنی کی بنیاد پر کی جانی چاہیے نہ کہ طے شدہ معیارات کے تحت۔ چھوٹے تاجروں اور دکان داروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت کو اسمگلنگ روکنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ کاروبار دوست ماحول بھی فراہم کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30397599</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jul 2024 22:11:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/1312582358dcc41.webp?r=125854" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/1312582358dcc41.webp?r=125854"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
