<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:08:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:08:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمن اسلحہ ساز کمپنی کے سی ای او کو قتل کرنے کی مبینہ روسی سازش ناکام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30397683/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے والی جرمن اسلحہ ساز کمپنی کے سی ای او ارمین پیپرگر کو قتل کرنے کی روسی سازش ناکام بنا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کی رپورٹ کے مطابق جرمن حکومت کے ایک سینیئر اہلکار سمیت پانچ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ہتھیار بنانے والی ایک طاقتور جرمن کمپنی رینمیٹال جو یوکرین کو اسلحہ بھیجتی ہے، اس لیے کمپنی کے سی ای او ارمین پیپرگر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30377524"&gt;روس نے یوکرین جنگ میں اب تک کتنا اسلحہ پھونک دیا؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ کے مطابق قتل کے منصوبے کے حوالے سے امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے جرمن ہم منصبوں کو مطلع کیا، جس کی بنیاد پر بعد میں پیپرگر کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30396677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جرمن اسلحہ ساز کمپنی کے سی ای او ارمین پیپرگر کو جان سے مارنے کی روسی سازش کو ناکام بنانے میں متعدد مغربی حکام شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسلحہ ساز کمپنی نے اس معاملے پر بات چیت سے انکار کیا اور کہا کہ حفاظتی اقدامات ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ اس نے خبر رساں ایجنسیوں کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی حکام کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کے دوران لازمی اقدامات کا یقینی بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کی جانب سے یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے والی جرمن اسلحہ ساز کمپنی کے سی ای او ارمین پیپرگر کو قتل کرنے کی روسی سازش ناکام بنا دی گئی۔</p>
<p>سی این این کی رپورٹ کے مطابق جرمن حکومت کے ایک سینیئر اہلکار سمیت پانچ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ہتھیار بنانے والی ایک طاقتور جرمن کمپنی رینمیٹال جو یوکرین کو اسلحہ بھیجتی ہے، اس لیے کمپنی کے سی ای او ارمین پیپرگر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30377524">روس نے یوکرین جنگ میں اب تک کتنا اسلحہ پھونک دیا؟</a></p>
<p>میڈیا رپورٹ کے مطابق قتل کے منصوبے کے حوالے سے امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے جرمن ہم منصبوں کو مطلع کیا، جس کی بنیاد پر بعد میں پیپرگر کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے گئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30396677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جرمن اسلحہ ساز کمپنی کے سی ای او ارمین پیپرگر کو جان سے مارنے کی روسی سازش کو ناکام بنانے میں متعدد مغربی حکام شامل تھے۔</p>
<p>دوسری جانب اسلحہ ساز کمپنی نے اس معاملے پر بات چیت سے انکار کیا اور کہا کہ حفاظتی اقدامات ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ اس نے خبر رساں ایجنسیوں کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی حکام کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کے دوران لازمی اقدامات کا یقینی بنایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30397683</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jul 2024 18:41:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/1318412992ee871.png?r=184145" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/1318412992ee871.png?r=184145"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ بلومبرگ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
