<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - News</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 03:09:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 03:09:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی پر پابندی کا ارادہ ظاہر کیا ہے اس پر آئینی طریقے سے عمل کیا جائیگا، رانا ثنااللہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30398500/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30398410/"&gt;وزیر قانون کے مؤقف&lt;/a&gt; کے بعد اب رانا ثنا اللہ نے بھی اس معاملے پر پارٹی بیان دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسے اپنے ہی اتحادیوں سے تنقید کا سامنا رہا جبکہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30398004"&gt;قانونی ماہرین&lt;/a&gt; نے حکومتی فیصلے کے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30398029/"&gt;حوصلہ شکنی&lt;/a&gt; کی۔ گزشتہ وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے تحریک انصاف پر پابندی کی صرف تجویز ہے، اسے اعلان یا منطقی فیصلہ نہیں کہہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی کا ارادہ ظاہر کیا ہے جبکہ اس حوالے سے آئین پر عمل کیا جائیگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے طریقہ کار پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آرٹیکل 17 کے تحت کسی بھی پارٹی پرپابندی کےلیے ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، جب کابینہ منظوری دے گی توڈکلیئریشن کو 15 دن میں سپریم کورٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور اگر عدالت ڈکلیئریشن سے متفق ہوجائے تواس پارٹی پرپابندی عائد ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30398282"&gt;پی ٹی آئی پر کسی کا باپ بھی پابندی نہیں لگا سکتا، علی امین گنڈا پور&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ اگر مخصوص نشستیں ہمیں مل سکتی ہیں تو آئینی طور پر کوشش کریں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججز کی تعیناتی کے معاملے میں کہا کہ ایڈ ہاک ججز رکھنے کا باقاعدہ آئین میں ذکر ہے، اگر یہ ٹھیک نہیں تو آئین میں کیوں ہے؟ کسی کے پسند یا ناپسند پر آئینی چیز کو روکا نہیں جاسکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق <a href="https://www.aaj.tv/news/30398410/">وزیر قانون کے مؤقف</a> کے بعد اب رانا ثنا اللہ نے بھی اس معاملے پر پارٹی بیان دے دیا۔</strong></p>
<p>واضح رہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسے اپنے ہی اتحادیوں سے تنقید کا سامنا رہا جبکہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30398004">قانونی ماہرین</a> نے حکومتی فیصلے کے <a href="https://www.aaj.tv/news/30398029/">حوصلہ شکنی</a> کی۔ گزشتہ وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے تحریک انصاف پر پابندی کی صرف تجویز ہے، اسے اعلان یا منطقی فیصلہ نہیں کہہ سکتے۔</p>
<p>اس معاملے پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی کا ارادہ ظاہر کیا ہے جبکہ اس حوالے سے آئین پر عمل کیا جائیگا۔</p>
<p>نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے طریقہ کار پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آرٹیکل 17 کے تحت کسی بھی پارٹی پرپابندی کےلیے ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، جب کابینہ منظوری دے گی توڈکلیئریشن کو 15 دن میں سپریم کورٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور اگر عدالت ڈکلیئریشن سے متفق ہوجائے تواس پارٹی پرپابندی عائد ہوجاتی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30398282">پی ٹی آئی پر کسی کا باپ بھی پابندی نہیں لگا سکتا، علی امین گنڈا پور</a></p>
<p>رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ اگر مخصوص نشستیں ہمیں مل سکتی ہیں تو آئینی طور پر کوشش کریں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججز کی تعیناتی کے معاملے میں کہا کہ ایڈ ہاک ججز رکھنے کا باقاعدہ آئین میں ذکر ہے، اگر یہ ٹھیک نہیں تو آئین میں کیوں ہے؟ کسی کے پسند یا ناپسند پر آئینی چیز کو روکا نہیں جاسکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30398500</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jul 2024 12:07:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/18115929a616886.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/18115929a616886.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
