<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 17:08:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 17:08:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لائیو نشریات کے دوران ضرورت سے زیادہ کھانا خاتون کی جان لے گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30399017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لائیو نشریات کے دوران زیادہ کھانا کھانے سے چینی ویلاگر موت کی نیند سوگئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 24 سالہ پین زیاؤٹنگ نامی خاتون اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر مختلف ویڈیوز بناتی تھی اور اپنے فالوورز کو محظوظ کرنے اور زیادہ ویوز حاصل کرنے کیلئے طرح طرح کے کھانے آزمایا کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر اس بار چینی اسٹریمر کو کھانا مہنگا پڑ گیا جس کے بعد پین زیاؤٹنگ موت کی نیند سوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون 10 گھنٹے تک بغیر وقفے کے کھانا کھاتی تھی اور ایک بار انہوں نے 22 پاؤنڈ کھانا کھایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30398633"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ کے مطابق ضرورت سے زیادہ لوازمات کھانے کے باعث چینی خاتون پیٹ سے خون بہنے کی وجہ سے اسپتال بھی جا چکی تھیں، مگر اس کے باوجود خاتون زیادہ کھانے سے بعض نہیں آئیں اور دوبارہ ویڈیوز بنانا شروع کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں بتایا گیا کہ خاتون کی موت کے بعد ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے پیٹ میں شدید خرابی اور غیر ہضم شدہ کھانے سے بھرے پیٹ کا انکشاف ہوا، ڈاکٹرز نے ان کی موت کی وجہ زیادہ کھانے کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیاؤٹنگ کی ویڈیوز کو چین میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا کیونکہ خاتون کی جانب سے بہت سا کھانا ضائع کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لائیو نشریات کے دوران زیادہ کھانا کھانے سے چینی ویلاگر موت کی نیند سوگئی۔</strong></p>
<p>غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 24 سالہ پین زیاؤٹنگ نامی خاتون اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر مختلف ویڈیوز بناتی تھی اور اپنے فالوورز کو محظوظ کرنے اور زیادہ ویوز حاصل کرنے کیلئے طرح طرح کے کھانے آزمایا کرتی تھیں۔</p>
<p>مگر اس بار چینی اسٹریمر کو کھانا مہنگا پڑ گیا جس کے بعد پین زیاؤٹنگ موت کی نیند سوگئی۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون 10 گھنٹے تک بغیر وقفے کے کھانا کھاتی تھی اور ایک بار انہوں نے 22 پاؤنڈ کھانا کھایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30398633"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میڈیا رپورٹ کے مطابق ضرورت سے زیادہ لوازمات کھانے کے باعث چینی خاتون پیٹ سے خون بہنے کی وجہ سے اسپتال بھی جا چکی تھیں، مگر اس کے باوجود خاتون زیادہ کھانے سے بعض نہیں آئیں اور دوبارہ ویڈیوز بنانا شروع کردیں۔</p>
<p>رپورٹس میں بتایا گیا کہ خاتون کی موت کے بعد ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے پیٹ میں شدید خرابی اور غیر ہضم شدہ کھانے سے بھرے پیٹ کا انکشاف ہوا، ڈاکٹرز نے ان کی موت کی وجہ زیادہ کھانے کو قرار دیا۔</p>
<p>میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیاؤٹنگ کی ویڈیوز کو چین میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا کیونکہ خاتون کی جانب سے بہت سا کھانا ضائع کیا جاتا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30399017</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jul 2024 17:28:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/20172213aafe7bd.png?r=172812" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/20172213aafe7bd.png?r=172812"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
