<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 01:02:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 01:02:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مخصوص نشستوں کے فیصلے پر جزوی عملدرآمد، 39 پی ٹی آئی اراکین کا نوٹیفیکیشن، سپریم کورٹ سے مزید رہنمائی لینے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30400056/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس اختتام پذیر ہوچکا ہے، جس میں عدالتی فیصلے پر رہنمائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں قانونی ٹیم نے الیکشن کمیشن کو فیصلے پر قانونی ابہام سے متعلق بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30396979/"&gt;12 جولائی کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار&lt;/a&gt; دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30399929/"&gt;پشاور: صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ختم، بنوں امن کمیٹی کے تمام مطالبات منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ  پی ٹی آئی کا پارٹی ڈھحانچہ موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ رہنمائی کرے کہ کس اتھارٹی کے تحت پارٹی ٹکٹس کو مانا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ چھ اگست بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397454"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، 18 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے الیکشن کمیشن کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30400054/"&gt;سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے 39 ارکان کو تحریک انصاف کے ارکان ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جنہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نوٹیفائی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفائی کئے گئے اراکین میں این اے 1 سے امجد علی خان، این اے 3 سے سلیم رحمان،  این اے 4 سے سہیل سلطان، این اے 6 سے محمد بشیر خان، این اے 7 سے محبوب شاہ ، این اے 9 سے جنید اکبر، این اے 17 سے علی خان جدون، این اے 19 سے اسد قیصر، این اے 20 سے شہرام خان، این اے 21 سے مجاہد علی، این اے 24 سے انور تاج، این اے 25 سے فضل محمد خان، این اے 29 سے ارباب عامر، این اے 30 سے شاندانہ گلزار، این اے 31 سے شیر علی ارباب، این اے 32 سے آصف خان ، این اے 33 سے سید شاہ احد علی شاہ، این اے  38 سے شاہد خان، این اے 39 سے نسیم علی شاہ، این اے 41 سے شیر افضل خان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ این اے 83 سے اسامہ خان، این اے 84 سے شفقت عباس، این اے 95 سے علی افضل ساہی، این اے 96 سے رائے حیدر علی خان، این اے 100 سے نثار احمد، این اے 101 سے رانا عاطف،
این اے 102 سے چنگیز احمد خان، این اے 103 سے محمد علی سرفراز، این اے 115 سے خرام شہزاد ورک، این اے 122 سے لطیف خان کھوسو، این اے 143 سے رائے حسن  نواز خان، این اے 149 سے ملک عامر ڈوگر، این اے 150 سے مخدوم زین قریشی، این اے 154 سے رانا محمد فراز، این اے 171 سے ممتاز مصطفیٰ، این اے 179 سے محمد شبیر علی قریشی، این اے 181 سے عمر مجید، این اے 182 سے اویس حیدر جکھر اور این اے 185 سے زرتاج گل کو بھی نوٹیفائی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس اختتام پذیر ہوچکا ہے، جس میں عدالتی فیصلے پر رہنمائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اجلاس میں قانونی ٹیم نے الیکشن کمیشن کو فیصلے پر قانونی ابہام سے متعلق بریفنگ دی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے <a href="https://www.aaj.tv/news/30396979/">12 جولائی کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار</a> دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دیا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30399929/">پشاور: صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ختم، بنوں امن کمیٹی کے تمام مطالبات منظور</a></strong></p>
<p>الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ  پی ٹی آئی کا پارٹی ڈھحانچہ موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ رہنمائی کرے کہ کس اتھارٹی کے تحت پارٹی ٹکٹس کو مانا جائے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ چھ اگست بنتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397454"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قبل ازیں، 18 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے الیکشن کمیشن کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30400054/">سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر</a></strong></p>
<p>اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے 39 ارکان کو تحریک انصاف کے ارکان ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جنہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نوٹیفائی کیا گیا ہے۔</p>
<p>نوٹیفائی کئے گئے اراکین میں این اے 1 سے امجد علی خان، این اے 3 سے سلیم رحمان،  این اے 4 سے سہیل سلطان، این اے 6 سے محمد بشیر خان، این اے 7 سے محبوب شاہ ، این اے 9 سے جنید اکبر، این اے 17 سے علی خان جدون، این اے 19 سے اسد قیصر، این اے 20 سے شہرام خان، این اے 21 سے مجاہد علی، این اے 24 سے انور تاج، این اے 25 سے فضل محمد خان، این اے 29 سے ارباب عامر، این اے 30 سے شاندانہ گلزار، این اے 31 سے شیر علی ارباب، این اے 32 سے آصف خان ، این اے 33 سے سید شاہ احد علی شاہ، این اے  38 سے شاہد خان، این اے 39 سے نسیم علی شاہ، این اے 41 سے شیر افضل خان شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ این اے 83 سے اسامہ خان، این اے 84 سے شفقت عباس، این اے 95 سے علی افضل ساہی، این اے 96 سے رائے حیدر علی خان، این اے 100 سے نثار احمد، این اے 101 سے رانا عاطف،
این اے 102 سے چنگیز احمد خان، این اے 103 سے محمد علی سرفراز، این اے 115 سے خرام شہزاد ورک، این اے 122 سے لطیف خان کھوسو، این اے 143 سے رائے حسن  نواز خان، این اے 149 سے ملک عامر ڈوگر، این اے 150 سے مخدوم زین قریشی، این اے 154 سے رانا محمد فراز، این اے 171 سے ممتاز مصطفیٰ، این اے 179 سے محمد شبیر علی قریشی، این اے 181 سے عمر مجید، این اے 182 سے اویس حیدر جکھر اور این اے 185 سے زرتاج گل کو بھی نوٹیفائی کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30400056</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jul 2024 20:23:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/25163602030d07e.webp?r=163726" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/25163602030d07e.webp?r=163726"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
