<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 05:35:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 05:35:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین جنگ میں روس کے ساتھ لڑتے ہوئے مزید بھارتی ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30400925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے ایک اور بھارتی فوجی ہلاک ہوگیا۔ 22 سالہ روی موآن وہ پانچویں بھارتی شہری ہیں، جن کی اس تنازعے میں لڑائی کے دوران موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اطلاع ہلاک ہونے والے فوجی کے ایک رشتہ دار نے پیر کو دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ہزاروں غیر ملکی فوجیوں میں سینکڑوں ہندوستانی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں ماسکو نے اپنی افواج کو تقویت دینے کے لیے بھرتی کیا اور اب بھارتی حکومت کی جانب سے ان کی وطن واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30396677"&gt;روس کے یوکرین کے متعدد شہروں پر ہائپرسونک میزائل حملے، 36 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی ٹیلیفونک گفتگو میں روی کے بھائی اجے موآن نے بتایا کہ روی رواں برس جنوری میں روس گئے اور ان کو وہاں بھجوانے والے ایجنٹ نے ان سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ملازمت کا وعدہ کیا تھا۔ اجے کے مطابق اس وعدے کے برخلاف روی کو ہتھیار استعمال کرنے کی ٹریننگ دینے کے بعد مارچ میں یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے مجبور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22 سالہ روی موآن کے بھائی اجے نے بتایا کہ روی ایک بار سرحد پار کے واپس آگیا تھا لیکن بعد میں اسے دوبارہ لڑنے کے لیے لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397081"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی نے روی کی لاش بھارت واپس لائے جانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کی درخواست بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ روی کی موت کب واقع ہوئی لیکن وہیں اس حوالے سے روس میں موجود بھارتی سفارتخانے سے اطلاع ملی کہ روی کی موت واقع ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30391831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روس نے یوکرین جنگ میں اپنی عسکری طاقت بڑھانے کے لیے ہزاروں غیر ملکیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کیا ہے، جن میں سینکڑوں بھارتی باشندے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب بھارت نے روسی فوج میں بھرتی اپنے شہریوں کی وطن واپسی پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے ایک اور بھارتی فوجی ہلاک ہوگیا۔ 22 سالہ روی موآن وہ پانچویں بھارتی شہری ہیں، جن کی اس تنازعے میں لڑائی کے دوران موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اطلاع ہلاک ہونے والے فوجی کے ایک رشتہ دار نے پیر کو دی۔</strong></p>
<p>ان ہزاروں غیر ملکی فوجیوں میں سینکڑوں ہندوستانی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں ماسکو نے اپنی افواج کو تقویت دینے کے لیے بھرتی کیا اور اب بھارتی حکومت کی جانب سے ان کی وطن واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30396677">روس کے یوکرین کے متعدد شہروں پر ہائپرسونک میزائل حملے، 36 افراد ہلاک</a></p>
<p>خبر رساں ادارے اے ایف پی ٹیلیفونک گفتگو میں روی کے بھائی اجے موآن نے بتایا کہ روی رواں برس جنوری میں روس گئے اور ان کو وہاں بھجوانے والے ایجنٹ نے ان سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ملازمت کا وعدہ کیا تھا۔ اجے کے مطابق اس وعدے کے برخلاف روی کو ہتھیار استعمال کرنے کی ٹریننگ دینے کے بعد مارچ میں یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے مجبور کیا گیا۔</p>
<p>22 سالہ روی موآن کے بھائی اجے نے بتایا کہ روی ایک بار سرحد پار کے واپس آگیا تھا لیکن بعد میں اسے دوبارہ لڑنے کے لیے لے جایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397081"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اجے کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی نے روی کی لاش بھارت واپس لائے جانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کی درخواست بھی کی تھی۔</p>
<p>فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ روی کی موت کب واقع ہوئی لیکن وہیں اس حوالے سے روس میں موجود بھارتی سفارتخانے سے اطلاع ملی کہ روی کی موت واقع ہوگئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30391831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روس نے یوکرین جنگ میں اپنی عسکری طاقت بڑھانے کے لیے ہزاروں غیر ملکیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کیا ہے، جن میں سینکڑوں بھارتی باشندے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب بھارت نے روسی فوج میں بھرتی اپنے شہریوں کی وطن واپسی پر زور دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30400925</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jul 2024 20:36:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/29203152bddc87f.png?r=203633" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/29203152bddc87f.png?r=203633"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
