<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 04:22:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 04:22:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بی جے پی کا مسلمانوں سے منافرت کا ایک اور اقدام ، ’لو جہاد‘ پر عمر قید کا بل منظور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30401238/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلمانوں سے نفرت میں اس قدر اندھی ہوگئی ہے کہ آئے  دن انتہائی نوعیت کے اقدامات کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو پروان چڑھنے سے روکتی رہتی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی اشو کھڑا کرکے معاملات کو انتہائی نوعیت کا بنانے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندو لڑکیاں اپنی خوشی سے اسلام قبول کرکے کسی مسلمان سے شادی کریں تو یہ بھی بی جے پی سے بالکل ہضم نہیں ہو پاتا۔ میڈیا کے ذریعے اِس کیفیت کو ’لو جہاد‘ کا نام دے کر مسلمانوں سے منافرت بڑھائی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اتر پردیش کی اسمبلی نے، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت ’لو جہاد‘ کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا دی جاسکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کا دعوٰی ہے کہ ہندو لڑکیوں پر دباؤ ڈال کر اُنہیں اسلام کے دائرے میں لاکر شادی کی جاتی ہے۔ ایسے نوجوانوں کو بی جے پی والے لو جہادی کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30393853"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ہندو لڑکیاں بتاتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ برین واشنگ کے ذریعے اُنہیں بہلایا پھسلایا جاتا ہے۔ اب اس حوالے سے عمر قید کا بل منظور کرایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی اتر پردیش حکومت نے’اَن لا فل کنورژن آف ریلیجن (امینڈمنٹ) بل 2024’ کے ذریعے ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذہب تبدیل کروانے کی نیت سے شادی کرنے یا شادی کی منصوبہ بندی رکنے پر پانچ لاکھ تک جرمانے کے علاوہ 20 سال یا عمر قید بھی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30310308"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کسی بھی ہندو لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے پر صرف اس کے والدین یا اہلِ خانہ اطلاع دے سکتے تھے۔ اب کوئی بھی شخص ایسی اطلاع دے سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتر پردیش میں پہلی بار نومبر 2020 میں لو جہاد بل کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلمانوں سے نفرت میں اس قدر اندھی ہوگئی ہے کہ آئے  دن انتہائی نوعیت کے اقدامات کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو پروان چڑھنے سے روکتی رہتی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی اشو کھڑا کرکے معاملات کو انتہائی نوعیت کا بنانے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔</strong></p>
<p>ہندو لڑکیاں اپنی خوشی سے اسلام قبول کرکے کسی مسلمان سے شادی کریں تو یہ بھی بی جے پی سے بالکل ہضم نہیں ہو پاتا۔ میڈیا کے ذریعے اِس کیفیت کو ’لو جہاد‘ کا نام دے کر مسلمانوں سے منافرت بڑھائی جارہی ہے۔</p>
<p>اب اتر پردیش کی اسمبلی نے، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت ’لو جہاد‘ کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا دی جاسکے گی۔</p>
<p>بی جے پی کا دعوٰی ہے کہ ہندو لڑکیوں پر دباؤ ڈال کر اُنہیں اسلام کے دائرے میں لاکر شادی کی جاتی ہے۔ ایسے نوجوانوں کو بی جے پی والے لو جہادی کہتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30393853"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب ہندو لڑکیاں بتاتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ برین واشنگ کے ذریعے اُنہیں بہلایا پھسلایا جاتا ہے۔ اب اس حوالے سے عمر قید کا بل منظور کرایا گیا ہے۔</p>
<p>یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی اتر پردیش حکومت نے’اَن لا فل کنورژن آف ریلیجن (امینڈمنٹ) بل 2024’ کے ذریعے ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>مذہب تبدیل کروانے کی نیت سے شادی کرنے یا شادی کی منصوبہ بندی رکنے پر پانچ لاکھ تک جرمانے کے علاوہ 20 سال یا عمر قید بھی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30310308"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اب تک کسی بھی ہندو لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے پر صرف اس کے والدین یا اہلِ خانہ اطلاع دے سکتے تھے۔ اب کوئی بھی شخص ایسی اطلاع دے سکے گا۔</p>
<p>اتر پردیش میں پہلی بار نومبر 2020 میں لو جہاد بل کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30401238</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 10:32:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/311015459c77d1b.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/311015459c77d1b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
