<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:09:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:09:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسماعیل ہنیہ کو کس عمارت میں شہید کیا گیا، تصویر سامنے آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30401547/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک کثیر المنزلہ مکان نما عمارت کی تصویر شیئر کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو تہران میں واقع اس عمارت میں شہید کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصویر میں اس عمارت کا ایک حصہ سیاہ کپڑے سے ڈھکا دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپڑے نے اوپر نیچے دو بالکونیوں کو ڈھانپ رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401469/"&gt;اسرائیل حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ تک کیسے پہنچا؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس عمارت کے رہائشی کمرے میں اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمارت تہران میں پاسداران انقلاب کا ایک ہاسٹل ہے اور فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے رہنما زیاد ںخالہ بھی اسی عمارت میں مقیم رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/08/01163159d3c9c39.webp'  alt=' آئی آر جی سی سے وابستہ میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی اس تصویر میں بظاہر حماس کے سربراہ کی تہران میں رہائش گاہ دکھائی دے رہی ہے جہاں انہیں قتل کیا گیا تھا ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آئی آر جی سی سے وابستہ میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی اس تصویر میں بظاہر حماس کے سربراہ کی تہران میں رہائش گاہ دکھائی دے رہی ہے جہاں انہیں قتل کیا گیا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا دعویٰ ہے کہ حماس رہنما اپنے بیٹے سے واٹس ایپ کال پر گفتگو کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ ان پر میزائل ایران کے اندر سے چلایا گیا یا باہر سے فائر ہوا۔ ایران میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401445/"&gt;ایران نے اسرائیل پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر ایک ایرانی عہدیدار نے اس سے شیئر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نیویارک ٹائمز میں تصویر شائع ہونے سے ایک روز قبل ایرانی ذرائع ابلاغ پر یہی تصویر سامنے آچکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401443/"&gt;خالد مشعل یا خلیل الحیا کو حماس کا نیا سربراہ بنائے جانے کا امکان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصویر کے ساتھ کہا گیا کہ یہ پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک کثیر المنزلہ مکان نما عمارت کی تصویر شیئر کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو تہران میں واقع اس عمارت میں شہید کیا گیا۔</strong></p>
<p>تصویر میں اس عمارت کا ایک حصہ سیاہ کپڑے سے ڈھکا دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>کپڑے نے اوپر نیچے دو بالکونیوں کو ڈھانپ رکھا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30401469/">اسرائیل حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ تک کیسے پہنچا؟</a></strong></p>
<p>بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس عمارت کے رہائشی کمرے میں اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>اسرائیلی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمارت تہران میں پاسداران انقلاب کا ایک ہاسٹل ہے اور فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے رہنما زیاد ںخالہ بھی اسی عمارت میں مقیم رہ چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/08/01163159d3c9c39.webp'  alt=' آئی آر جی سی سے وابستہ میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی اس تصویر میں بظاہر حماس کے سربراہ کی تہران میں رہائش گاہ دکھائی دے رہی ہے جہاں انہیں قتل کیا گیا تھا ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آئی آر جی سی سے وابستہ میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی اس تصویر میں بظاہر حماس کے سربراہ کی تہران میں رہائش گاہ دکھائی دے رہی ہے جہاں انہیں قتل کیا گیا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ماہرین کا دعویٰ ہے کہ حماس رہنما اپنے بیٹے سے واٹس ایپ کال پر گفتگو کر رہے تھے۔</p>
<p>یہ واضح نہیں کہ ان پر میزائل ایران کے اندر سے چلایا گیا یا باہر سے فائر ہوا۔ ایران میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30401445/">ایران نے اسرائیل پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں</a></strong></p>
<p>نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر ایک ایرانی عہدیدار نے اس سے شیئر کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم نیویارک ٹائمز میں تصویر شائع ہونے سے ایک روز قبل ایرانی ذرائع ابلاغ پر یہی تصویر سامنے آچکی تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30401443/">خالد مشعل یا خلیل الحیا کو حماس کا نیا سربراہ بنائے جانے کا امکان</a></strong></p>
<p>تصویر کے ساتھ کہا گیا کہ یہ پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30401547</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2024 16:50:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/01163350f7aa69b.webp?r=163506" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/01163350f7aa69b.webp?r=163506"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
