<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:33:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:33:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیکٹ چیک: اسماعیل ہنیہ کے آخری الفاظ والی وائرل ویڈیو کی حقیقت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30401548/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلسطینی  مزاحمتی تنظیم “حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد تہران کی جانب سے نہ تو ان کی آخری تصویر شئیر کی گئی ہے اور نہ ہی ویڈیو، یہاں تک کہ اس معاملے کو اتنا خفیہ رکھا گیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو جس مقام پر اسرائیل نے نشانہ بنایا وہاں کی تصاویر بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن سوشل میڈیا پر اسماعیل ہنیہ سے منسوب ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ اسماعیل ہنیہ کے آخری الفاظ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401469/"&gt;اسرائیل حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ تک کیسے پہنچا؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد صارفین نے اسماعیل ہنیہ کی موت کے بعد اس ویڈیو کو شئیر کیا، تاہم جب حقیقت جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو گزشتہ سال کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401547"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے پنجاب لائرز ونگ کی نائب صدر ایڈووکیٹ مونا جاوید نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/Monajaved9/status/1818574636025888794"&gt;ویڈیو شیئر کی&lt;/a&gt;، اور اس کے کیپشن میں لکھا، ’’شہید اسماعیل ہنیہ کے آخری الفاظ، ان کی شہادت سے چند لمحے قبل، خدا ان پر رحم کرے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک زخمی اور خون آلود شخص نے زخموں کا علاج کیا جارہا ہے، اس کے چہرے کو طبی عملہ صار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401445/"&gt;ایران نے اسرائیل پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ایکس صارف، جو اپنی دیگر پوسٹس کی بنیاد پر پی ٹی آئی کا حامی دکھائی دیتا ہے، اس نے بھی کیپشن کے ساتھ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/ShahzadGill202/status/1818659918032875769"&gt;ویڈیو شیئر کی&lt;/a&gt;، ’ایران میں اسماعیل ہنیہ کے آخری الفاظ، کہتے ہیں غزہ کے مسلمانوں کی مدد کریں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کو متعدد دیگر ایکس صارفین نے بھی شیئر کیا تھا اور اسے یوٹیوب پر بھی شیئر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور تمام ویڈیوز کو لاکھوں ویوز ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pak.i-verify.org/viral-video-said-to-be-of-hamas-chiefs-last-moments-is-old-video-of-injured-palestinian/"&gt;”iVerify“&lt;/a&gt; پاکستان کی جانب سے اس دعوے کی وائرل ہونے کی وجہ سے اس کی سچائی کا تعین کرنے کے لیے حقائق کی جانچ شروع کی گئی اور اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ ویڈیو نومبر 2023 کی ہے جس میں موجود شخص اسماعیل ہنیہ نہیں بلکہ ایک زخمی فلسطینی بزرگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;iVerify پاکستان ٹیم نے ویڈیو کے اسکرین شاٹس کا استعمال کرتے ہوئے ایک ریورس امیج سرچ کیا جس کی وجہ سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://web.archive.org/web/20240801062723/https://ifilo.net/v/lP5RnSP"&gt;ویڈیو سبسکرپشن سروس کی ایک ویب سائٹ&lt;/a&gt; ملی جہاں یہ ویڈیو کم از کم آٹھ ماہ قبل نومبر اور دسمبر 2023 کے آس پاس پوسٹ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تلاش کے نتیجے میں 6 نومبر 2023 کو عربی نیوز ایگریگیٹر ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://web.archive.org/web/20240801062723/https://ifilo.net/v/lP5RnSP"&gt;”نابد“ (NABD)&lt;/a&gt; پر اس کیپشن کے ساتھ یہ ویڈیو سامنے آئی، ’جب کہ خون بہہ رہا ہے، ایک فلسطینی اپنی شہادت کی انگلی کو اونچا کر کے نعرے لگا رہا ہے، ”ہم سب مزاحمت کے ساتھ ہیں… ایک ثابت قدمی جو آپ کو صرف غزہ میں ملے گی، غزہ مزاحمت کرے گا اور جیت جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401401/"&gt;اسماعیل ہنیہ کے بعد حماس کا نیا سربراہ کون ہوگا؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر بھی ہنیہ کے قتل کی تفصیل سے میل نہیں کھاتے۔ حماس کے سربراہ اور ان کا ایک محافظ ایران میں ان کی رہائش گاہ پر ایک پراجیکٹائل کے ذریعے مارے گئے، جب کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ طبی عملہ ایک خون آلود شخص کے زخموں کا علاج کر رہا ہے اور ایک خاتون کے ساتھ ایک بچہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مرکزی میڈیا میں کہیں بھی ہنیہ کے قتل کے بارے میں اس طرح کی اطلاع نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانچ کے نتیجے میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ ویڈیو نومبر 2023 کی پرانی اور غیر متعلقہ ویڈیو ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فلسطینی  مزاحمتی تنظیم “حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد تہران کی جانب سے نہ تو ان کی آخری تصویر شئیر کی گئی ہے اور نہ ہی ویڈیو، یہاں تک کہ اس معاملے کو اتنا خفیہ رکھا گیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو جس مقام پر اسرائیل نے نشانہ بنایا وہاں کی تصاویر بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔</strong></p>
<p>لیکن سوشل میڈیا پر اسماعیل ہنیہ سے منسوب ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ اسماعیل ہنیہ کے آخری الفاظ ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30401469/">اسرائیل حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ تک کیسے پہنچا؟</a></strong></p>
<p>متعدد صارفین نے اسماعیل ہنیہ کی موت کے بعد اس ویڈیو کو شئیر کیا، تاہم جب حقیقت جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو گزشتہ سال کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401547"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے پنجاب لائرز ونگ کی نائب صدر ایڈووکیٹ مونا جاوید نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/Monajaved9/status/1818574636025888794">ویڈیو شیئر کی</a>، اور اس کے کیپشن میں لکھا، ’’شہید اسماعیل ہنیہ کے آخری الفاظ، ان کی شہادت سے چند لمحے قبل، خدا ان پر رحم کرے۔‘</p>
<p>ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک زخمی اور خون آلود شخص نے زخموں کا علاج کیا جارہا ہے، اس کے چہرے کو طبی عملہ صار کر رہا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30401445/">ایران نے اسرائیل پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں</a></strong></p>
<p>ایک اور ایکس صارف، جو اپنی دیگر پوسٹس کی بنیاد پر پی ٹی آئی کا حامی دکھائی دیتا ہے، اس نے بھی کیپشن کے ساتھ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/ShahzadGill202/status/1818659918032875769">ویڈیو شیئر کی</a>، ’ایران میں اسماعیل ہنیہ کے آخری الفاظ، کہتے ہیں غزہ کے مسلمانوں کی مدد کریں۔‘</p>
<p>ویڈیو کو متعدد دیگر ایکس صارفین نے بھی شیئر کیا تھا اور اسے یوٹیوب پر بھی شیئر کیا گیا۔</p>
<p>اور تمام ویڈیوز کو لاکھوں ویوز ملے۔</p>
<p>اس کے بعد <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pak.i-verify.org/viral-video-said-to-be-of-hamas-chiefs-last-moments-is-old-video-of-injured-palestinian/">”iVerify“</a> پاکستان کی جانب سے اس دعوے کی وائرل ہونے کی وجہ سے اس کی سچائی کا تعین کرنے کے لیے حقائق کی جانچ شروع کی گئی اور اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ ویڈیو نومبر 2023 کی ہے جس میں موجود شخص اسماعیل ہنیہ نہیں بلکہ ایک زخمی فلسطینی بزرگ ہیں۔</p>
<p>iVerify پاکستان ٹیم نے ویڈیو کے اسکرین شاٹس کا استعمال کرتے ہوئے ایک ریورس امیج سرچ کیا جس کی وجہ سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://web.archive.org/web/20240801062723/https://ifilo.net/v/lP5RnSP">ویڈیو سبسکرپشن سروس کی ایک ویب سائٹ</a> ملی جہاں یہ ویڈیو کم از کم آٹھ ماہ قبل نومبر اور دسمبر 2023 کے آس پاس پوسٹ کی گئی تھی۔</p>
<p>مزید تلاش کے نتیجے میں 6 نومبر 2023 کو عربی نیوز ایگریگیٹر ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://web.archive.org/web/20240801062723/https://ifilo.net/v/lP5RnSP">”نابد“ (NABD)</a> پر اس کیپشن کے ساتھ یہ ویڈیو سامنے آئی، ’جب کہ خون بہہ رہا ہے، ایک فلسطینی اپنی شہادت کی انگلی کو اونچا کر کے نعرے لگا رہا ہے، ”ہم سب مزاحمت کے ساتھ ہیں… ایک ثابت قدمی جو آپ کو صرف غزہ میں ملے گی، غزہ مزاحمت کرے گا اور جیت جائے گا۔“</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30401401/">اسماعیل ہنیہ کے بعد حماس کا نیا سربراہ کون ہوگا؟</a></strong></p>
<p>ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر بھی ہنیہ کے قتل کی تفصیل سے میل نہیں کھاتے۔ حماس کے سربراہ اور ان کا ایک محافظ ایران میں ان کی رہائش گاہ پر ایک پراجیکٹائل کے ذریعے مارے گئے، جب کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ طبی عملہ ایک خون آلود شخص کے زخموں کا علاج کر رہا ہے اور ایک خاتون کے ساتھ ایک بچہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ مرکزی میڈیا میں کہیں بھی ہنیہ کے قتل کے بارے میں اس طرح کی اطلاع نہیں دی گئی۔</p>
<p>جانچ کے نتیجے میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ ویڈیو نومبر 2023 کی پرانی اور غیر متعلقہ ویڈیو ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30401548</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Aug 2024 18:54:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/011646377968a47.jpg?r=164722" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/011646377968a47.jpg?r=164722"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
