<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 08:26:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 08:26:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک لاکھ ٹکڑوں میں پھاڑے گئے نوٹوں کو جوڑنے میں بینک عملے کے کتنے دن ضائع ہوئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30401565/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پھاڑے گئے کرنسی نوٹوں کو جوڑنا یقیناً ایک بہت مشکل کام ہے، مگر چین میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون کی جانب سے پھاڑے گئے لاکھوں روپے کے نوٹوں کو جوڑ دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ذہنی تناؤ کا شکار ایک خاتون نے 32 ہزار یوآن کی مالیت کے نوٹوں کو ایک لاکھ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زینگ نام کی خاتون ان پھٹے ہوئے کرنسی نوٹوں کو جون 2024 میں صوبہ یوننان کے صدر مقام کونمینگ کے ایک بینک میں لے کر آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زینگ نے بتایا کہ یہ نوٹ 5 سال پہلے ان کے بھائی کی اہلیہ کی جانب سے پھاڑ دیے گئے تھے جو ڈپریشن کی شکار تھی اور گزشتہ دنوں ان کا انتقال ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابنق چین میں پھاڑے گئے کرنسی نوٹوں مفت میں تبدیل کرد یا جاتا ہے مگر وہاں متعدد بینکوں نے  زینگ کے بھائی کے نوٹوں کو لینے سے انکار کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں جوڑنا مشکل کام تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زینگ کے بھائی نے ان سے نوٹوں کو بینک میں جمع کرانے کی درخواست کی اور خوش قسمتی کی بات یہ کہ جب زینگ اپنے شہر میں واقع ایک بینک میں جب ان کٹے پھٹے کرنسی نوٹوں کو لے کر گئیں تو بینک کا عملہ نوٹ جوڑنے کے لیے راضی ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30394234"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں بینک کے عملے نے 32 ہزار یوآن کی مالیت کے نوٹ جوڑ دیے تھے، عملے میں شامل 4 افراد کو پھٹے نوٹوں کو جوڑنے کا ٹاسک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان افراد نے میگنیفائی کا استعمال کرکے نوٹوں کے ٹکڑوں کو شناخت کیا اور 22 دن کا وقت لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد انہوں نے ٹکڑوں کو جوڑ کر ٹھیک کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پھاڑے گئے کرنسی نوٹوں کو جوڑنا یقیناً ایک بہت مشکل کام ہے، مگر چین میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون کی جانب سے پھاڑے گئے لاکھوں روپے کے نوٹوں کو جوڑ دیا گیا۔</strong></p>
<p>غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ذہنی تناؤ کا شکار ایک خاتون نے 32 ہزار یوآن کی مالیت کے نوٹوں کو ایک لاکھ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>زینگ نام کی خاتون ان پھٹے ہوئے کرنسی نوٹوں کو جون 2024 میں صوبہ یوننان کے صدر مقام کونمینگ کے ایک بینک میں لے کر آئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>زینگ نے بتایا کہ یہ نوٹ 5 سال پہلے ان کے بھائی کی اہلیہ کی جانب سے پھاڑ دیے گئے تھے جو ڈپریشن کی شکار تھی اور گزشتہ دنوں ان کا انتقال ہوگیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابنق چین میں پھاڑے گئے کرنسی نوٹوں مفت میں تبدیل کرد یا جاتا ہے مگر وہاں متعدد بینکوں نے  زینگ کے بھائی کے نوٹوں کو لینے سے انکار کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں جوڑنا مشکل کام تھا۔</p>
<p>زینگ کے بھائی نے ان سے نوٹوں کو بینک میں جمع کرانے کی درخواست کی اور خوش قسمتی کی بات یہ کہ جب زینگ اپنے شہر میں واقع ایک بینک میں جب ان کٹے پھٹے کرنسی نوٹوں کو لے کر گئیں تو بینک کا عملہ نوٹ جوڑنے کے لیے راضی ہوگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30394234"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد ازاں بینک کے عملے نے 32 ہزار یوآن کی مالیت کے نوٹ جوڑ دیے تھے، عملے میں شامل 4 افراد کو پھٹے نوٹوں کو جوڑنے کا ٹاسک دیا گیا۔</p>
<p>ان افراد نے میگنیفائی کا استعمال کرکے نوٹوں کے ٹکڑوں کو شناخت کیا اور 22 دن کا وقت لگا۔</p>
<p>اس کے بعد انہوں نے ٹکڑوں کو جوڑ کر ٹھیک کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30401565</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2024 17:54:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/011747481e009a2.png?r=175458" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/011747481e009a2.png?r=175458"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
