<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Videos - Recap</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 13:34:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 13:34:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی ترانہ لکھنے کا اعزاز قومی ہیرو حفیظ جالندھری کے حصے میں آیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30403338/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قیام پاکستان کے بعد قومی ترانہ لکھنے کا اعزاز قومی ہیرو حفیظ جالندھری کے حصے میں آیا، انہوں نے یہ فریضہ اس مہارت سے انجام دیا کہ تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروفِ سے لکھوا لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک پاکستان کے ہراول دستے میں فعال کردار ادا کرنے والے حفیظ جالندھری 14 جنوری سن 1900 میں پیدا ہوئے۔ قائداعظم کی ان سے محبت کا عالم یہ تھا کہ وہ انہیں بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔۔ کہا جاتا ہے کہ قومی ترانہ لکھنے کا مرحلہ آیا تو حفیظ جالندھری نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا اور اس فریضے کو حقیقت کا روپ دینے میں انہیں کئی روز لگ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حفیظ جالندھری کا مزار مینار پاکستان کے قریب واقع ہے۔۔ مزار کے اردگرد خوبصورت سیاہ اور سفید پتھر لگایا گیا ہے۔ جہاں شہری آکر فاتحہ خوانی کرتے ہیں لیکن وہ اسکی حالت زار سے خوش نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حفیظ جالندھری کا اِنتقال اکیس دسمبر 1986 میں ہوا۔ مگر آج بھی قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے تو اس ملک کا ہر ایک شہری انہیں بھی یاد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قیام پاکستان کے بعد قومی ترانہ لکھنے کا اعزاز قومی ہیرو حفیظ جالندھری کے حصے میں آیا، انہوں نے یہ فریضہ اس مہارت سے انجام دیا کہ تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروفِ سے لکھوا لیا۔</strong></p>
<p>تحریک پاکستان کے ہراول دستے میں فعال کردار ادا کرنے والے حفیظ جالندھری 14 جنوری سن 1900 میں پیدا ہوئے۔ قائداعظم کی ان سے محبت کا عالم یہ تھا کہ وہ انہیں بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔۔ کہا جاتا ہے کہ قومی ترانہ لکھنے کا مرحلہ آیا تو حفیظ جالندھری نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا اور اس فریضے کو حقیقت کا روپ دینے میں انہیں کئی روز لگ گئے۔</p>
<p>حفیظ جالندھری کا مزار مینار پاکستان کے قریب واقع ہے۔۔ مزار کے اردگرد خوبصورت سیاہ اور سفید پتھر لگایا گیا ہے۔ جہاں شہری آکر فاتحہ خوانی کرتے ہیں لیکن وہ اسکی حالت زار سے خوش نہیں ہیں۔</p>
<p>حفیظ جالندھری کا اِنتقال اکیس دسمبر 1986 میں ہوا۔ مگر آج بھی قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے تو اس ملک کا ہر ایک شہری انہیں بھی یاد کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Videos</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30403338</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Aug 2024 15:52:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شوکت علی)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/n1rvJpwEG9I/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/n1rvJpwEG9I/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=n1rvJpwEG9I"/>
        <media:title>The story of Hafeez Jalandhri who played an active role in the Tehreek-e-Pakistan - Aaj News
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
